1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

کلامِ اقبال اور صدیق سالک ، ہمہ یارں دوزخ سے ایک اقتباس

'حاصل ِ مطالعہ' میں موضوعات آغاز کردہ از بنگش, ‏اپریل 18, 2014۔

  1. بنگش

    بنگش یونہی ہمسفر

    یہ اقتباس صدیق سالک کی کتاب "ہمہ یاراں دوزخ "سے لیا گیا ہے، جو انہوں نے 1971 کی پاک بھارت جنگ کے بعد بھارت کی قید میں لکھی، کسی قیدی کی تحریر تلخیوں سے مبرا نہیں ہو سکتی لیکن لیکن ایک زندہ دل انسان ہر طرح کے حالات میں مسکراہٹیں بکھیرنا جانتاہے.اب اقتباس ملاحظہ کیجئے.

    "ایک دن میجر خالق نے خلافِ توقع ذرا سنجیدہ لہجے میں مجھ سے کہا کہ تم مجھے اور میرے دوسرے ساتھیوں مثلاً فرخ،عارف،یوسف،بہرام اور راٹھور کو"بانگِ درا"کا سبق دیا کرو۔میں اس تجویز سے کچھ حیران اورکچھ پریشان ہوا۔حیرانی کی وجہ یہ تھی کہ آخر ان پیشہ ور انجنیروں کو اچانک"بانگِ درا " پڑھنے کی کیا سوجھی اور پریشانی اس بات کی کہ میں خود اقبال کی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ان کے کلام کی روح دوسرو ں تک کیسے پہناوں گا۔میجر خالق جو اس گروہ میں جسم کی ساخت اور فوج کی مدتِ ملازمت کے لحاظ سے سب سے سینئر تھے تقریباً حکم کے انداز میں کہنے لگے "کچھ عرصہ ہوا تم نے یومِ اقبال منانے کی تحریک کی تھی۔تمہاری یہ خطا اس وقت تک معاف نہیں ہوسکتی جب تک ہمیں بھی کلامِ اقبا ل سے روشناس نہ کراؤ۔ رہا ہماراذوق و شوق تو اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک اقبا ل ہمارے قومی شاعر ہیں ،ان کی شاعری کا مطالعہ از بس ضروری ہے۔اگر جیل میں قرآن پاک پہلی مرتبہ پڑھا جا سکتاہے تو کلامِ اقبال کا سبق کیوں نہیں لے سکتے۔دوسری وجہ انہوں نے ذرا سرگوشی کے لہجے میں بتائی کہ "میرا خیال ہے اقبال خشک فلسفی نہیں بلکہ زندہ دل رومانی شاعر تھے۔"میں نے اسی رازدارانہ فضا کو برقرار رکھتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں پوچھا"آپ پر یہ انکشاف کب اور کیسے ہوا؟" وہ جواب میں بانگِ درا اُٹھا لائے اور فہرستِ مضامین کے حصہ دوم میں ایک ایک عنوان پر انگلی رکھ کر کہنے لگے ذرا دیکھو"محبت" ، "حقیقتِ حُسن"، "حُسن اور عشق"، "۔۔۔کی گود میں بلی دیکھ کر"، "وصال"، "سلیمی"، عاشق ہرجائی" ، "جلوہ حُسن" ، "پیامِ عشق" ، "فراق" ، کیوں ہیں ناں سارے کے سارے رومانی عنوان؟ بس شروع کردو۔
    چنانچہ جب باقی لوگ نمازِ عصر کے بعد کھیل کود میں وقت ضایع کرتے،ہم اقبال پڑھنے بیٹھ جاتے۔غسل خانوں سے ذرا ہٹ کر ایک خاموش گوشہ کلاس روم کے طور پر منتخب کیا گیا۔استاد کے لیے مونڈھا اور کلاس کے لیے بینچ بچھائے گئے۔اور ہم ایک غزل یومیہ کے حساب سے پڑھنے لگے۔چند ہی دن میں کلاس کی تعداد بڑھنے لگی اور مجھے اپنی مقبولیت کا احساس ہونے لگا،۔۔لیکن اے طائرِ فریب خوردہ تو کس دام میں آ پھنسا؟ جلد ہی مجھ پر وا ہوا کہ میجر خالق نے بہلا پھسلا کر اس کام میں مبتلا کیا ہے۔انہوں نے میرا مذاق اُڑانے کی خاطر اقبا ل سے اپنی ناواقفیت کا ڈرامہ کھیلا تھا۔ دراصل وہ سب حضرات کلامِ اقبال مجھ سے بہتر سمجھتے تھے۔مجھے اس کاعلم یوں ہوا کہ کئی دفعہ میں کسی شعر کی "استادانہ" تفسیرکر بیٹھتا تو میجر خالق یا کلاس کا کوئی اور رکن نہایت شاگردانہ انداز میں ہاتھ ہلا ہلا کر کچھ کہنے کی اجازت طلب کرتا اور جب میں استادانہ وقار کے ساتھ سر اثبات میں ہلا کر عرضِ مدعا کی اجازت دیتا تو وہ اسی شعر کے مرکزی خیال کے گہرے سمندر سے معانی کے ایسے دُرِ شہوار نکال لاتا کہ مجھے اپنے سطحی علم پر ندامت ہونے لگتی۔ دراصل سب حاضرین علامہ اقبال سے دیرینہ لگاؤ رکھتے تھے اور زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں ناصرف کلامِ اقبال پڑھ چکے تھے،بلکہ اس کے لفظی اور معنوی محاسن کو حرزِ جاں بنا چکے تھے۔
    میں اس دام میں پھنس کر بہت پھڑ پھڑایا،لیکن میجر خالق ٹہرے سینئر۔حکم ہوا"پڑھاو گے اور ضرور پڑھاو گے،جب تک کلامِ اقبال ختم نہیں ہوتایا وطن واپسی نہیں ہوتی(جو بھی پہلے ہو)یہ سلسلہ جاری رہے گا۔"
    اس پر ستم یہ ہواکہ ایک دن میجر سمیع نہا کر واپس آئے تو کہنے لگے"میں بھی کل سے بانگِ درا" والی کلاس میں شریک ہوں گا۔تاکہ ادھر اُدھر وقت ضائع کرنے کے بجائے آپ کے علم سے استفادہ کر سکوں"میرا ماتھا ٹھنکا کہ یہ دوسرے میجر خالق ثابت ہوں گے،لیکن میں نے پسپا ہونے سے پہلے اُستادانہ رکھ رکھاو سے پوچھا "کلاس تو کئی روز سے جاری ہے ، آج آپ کو اس میں شرکت کا خیال اچانک کیسے آیا؟" کہنے لگے"مجھے پتا نہیں تھا کہ اقبال کی شاعری میں لڑکیوں کے خوبصورت نام ہیں۔میں نے آج نہا کر آتے ہوئے آپ کو بانگِ درا پڑھاتے دیکھا تو "نگہت" ، گلزار" ، اور شمیم کے نام کانوں میں پڑے۔ معلوم ہوتا ہے اقبال تو بڑے باذوق آدمی تھے۔آپ نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا؟"
    میں نے سوچا پہلے بھی اقبال کے ماتھےسے رومانی شاعری کا داغ دھونے کی خاطر میں نےاس میدان میں قدم رکھا تھا اور احساس ِ جہالت کے بوجھ تلے پسا جا رہا ہوں۔اب میجر سمیع بھی کچھ ایسے ہی داؤ پیچ لڑ ا رہے ہیں۔بھئی توبہ ہی بھلی۔میں اقبال پڑھانے سے رہا۔
    اور اگلے روز میں نے مزید تضحیک کا نشانہ بنے بغیر یہ "اُستادی" ختم کردی۔
     
  2. بینا

    بینا مدیر Staff Member

    واہ واہ ......... صدیق سالک کی ظرافت کا کیا عمدہ و اعلیٰ نمونہ ہے....... زبردست انتخاب ;))
     
  3. جوگی

    جوگی منتظم Staff Member

    مزہ آ گیا پڑھ کر۔۔۔۔جزاک اللہ جناب ہمارے لیے آپ نے اقتباس پوسٹ کیا
     
  4. حامدسلطان

    حامدسلطان یونہی ہمسفر

    بنگش صاحب ۔۔۔۔زبردست انتخاب ہے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں