1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

پاکستانی دیگ

'حاصل ِ مطالعہ' میں موضوعات آغاز کردہ از جوگی, ‏دسمبر 20, 2013۔

  1. جوگی

    جوگی منتظم Staff Member

    [SIZE=20pt]

    نقل ہے کہ ایک شہر میں ایک مست بابا آ گیا۔ آتے ہی اُس نے
    حکم دیا کہ ایک بہت بڑی دیگ لاؤ۔ دیگ آ گئی تو بولا، اس دیگ کے لائق ایک چولہا
    بناؤ، اس میں لکڑیاں رکھ کر بھانبنڑ لگا دو۔ چولہا جل گیا، مست نے حکم دیا کہ دیگ
    میں پانی بھر دو، اوپر ڈھکنا لگا دو، اسے چولہے پر رکھ دو۔ اگلی صبح انھوں نے دیگ
    کا ڈھکنا اُٹھایا تو دیکھا کہ وہ پلاؤ سے بھری ہوئی ہے۔ سارے شہر میں اعلان کر دیا
    گیا کہ حاجت مند آئیں، انھیں کھانا مفت تقسیم کیا جائے گا۔ اس اعلان پر سارا شہر دیگ
    پر اُمڈ آیا مست پلاؤ کی تھالیاں بھر بھر کر دینے لگا۔ اگلے روز انھوں نے دیگ کا
    ڈھکنا اُٹھایا تو دیکھا کہ دیگ جوں کی توں بھری ہوئی تھی۔ اس پر شہر میں مست بابا
    کی دھوم مچ گئی۔ برتاوے تھالیاں بھر بھر کر لوگوں کو بانٹتے مگر دیگ جوں کی توں
    بھری تھی۔ حاجت مندوں میں ایک فقیر بھی تھا۔ وہ خالی ہاتھ آتا اور سارا دن کھڑا
    تماشا دیکھتا رہتا۔ برتاوے کہتے، میاں تو کیوں خالی ہاتھ کھڑآ ہے، برتن لا اور
    چاول لے لے۔ وہ کہتا، میں حاجت مند نہیں ہوں۔[/SIZE]

    اس بات پر برتاوے بہت حیران ہوتے کہ کھڑا بھی رہتا ہے بٹر بٹر دیکھتا
    بھی رہتا ہے مگر کھاتا پیتا نہیں ہے۔ انھوں نے مست بابا سے بات کی۔ مست بابا نے
    کہا، اس شخص کو میرے پاس لاؤ۔ وہ فقیر کو مست بابا کے پاس لے گئے۔ مست بابا نے
    پوچھا، میاں کیا بات ہے کہ تو سارا دن دیگ کے سامنے کھڑا رہتا ہے لیکن دیگ کے چاول
    نہیں کھاتا۔

    فقیر بولا، میں یہاں چاول کھانے نہیں آتا اور نہ ہی اس دیگ
    کو دیکھنے آتا ہوں، جو سدا بھری رہتی ہوں۔ مست بابا نے پوچھا، پھر تو یہاں آتا کیوں
    ہے؟ فقیر بولا میں تو تیری زیارت کرنے آتا ہوں، تو جو اس شہر کا رب بنا ہوا ہے اور
    لوگوں میں رزق تقسیم کر رہا ہے۔



    مست بابا کا چہرہ بھیانک ہو گیا۔ وہ چلا کر بولا: ” دیگ کو اُنڈیل دو۔
    چولہے پر پانی ڈال دو۔[SIZE=20pt][/SIZE]‟[SIZE=20pt] یہ کہہ کر مست بابا نے اپنی لاٹھی
    اُٹھائی اور شہر سے باہر نکل گیا۔[/SIZE]






    میرے کئی دوست کہتے ہیں، مفتی یہ کہانی تو نے خود گھڑی ہے۔ یہ
    تو پاکستان کی کہانی ہے۔ لوگ اس دیگ کو کھا رہے ہیں۔ وہ چلا جاتا ہے تو دسرا گروپ
    آ جاتا ہے کھاتا ہے، وہ چلا جاتا ہے تو دوسرا گروپ آ جاتا ہے۔ اس کے جیالے دیگ پر
    ٹوٹ پڑتے ہیں لیکن یہ دیگ ختم ہونے میں نہیں آتی۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ دیگ مست نے
    چڑھائی تھی اور یہ خود ربِ جلیل نے چڑھائی ہے۔



    ممتاز مفتی کی کتاب ”تلاش” سے اقتباس​
     
    تجمل حسین اور ماہی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. حامدسلطان

    حامدسلطان یونہی ہمسفر

    واقعی تحریر پڑھنے کے دوران دماغ میں جو پہلا خیال جاتا ہے وہ یہ کہ اس وطنِ عزیز کو دیگ سے تشبیہ دی جا رہی ہے ۔ پورے 100نمبر :)>-
     
  3. جوگی

    جوگی منتظم Staff Member

    پسندیدگی کا شکریہ سائیں
     
  4. بینا

    بینا مدیر Staff Member

    ممتاز مفتی نے بہت بہترین مثال دے کر اس ملک کو کھانے والوں کو بے نقاب کیا ہے جو بھی ایوانِ اقتدار میں داخل ہوتا ہے اس کا یہی حال ہوتا ہے۔۔۔۔! 
     
  5. بنگش

    بنگش یونہی ہمسفر

    ممتاز مفتی کی ہر تحریر لاجواب ہوتی ہے۔
     
  6. زبیر

    زبیر منتظم Staff Member

    اگر یہ پاکستان کی کہانی ہے۔۔تو وہ فقیر کون ہے جو بس دیکھ کے چلا جاتا تھا۔
     
  7. جوگی

    جوگی منتظم Staff Member

    اگر یہ پاکستان کی کہانی ہے۔۔تو وہ فقیر کون ہے جو بس دیکھ کے چلا جاتا تھا۔

    وہ پاک فوج ہےجو کہ اصل میں خیر خواہ ہے ملک کی ،
     جب کہ جمہوریت کی ڈگڈگی بجا کر سیاست دان مامے بنے ہوئے ہیں
     
    ماہی نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. زبیر

    زبیر منتظم Staff Member

    ہاہاویسے یہ بات پاک فوج پر لاگو نہیں ہوتی۔
    کیوں کہ پاکستان کی تاریخ میں پاک فوج صرف دیکھتی نہیں رہی بلکہ ایک لمبے عرصے تک حکومت فوج کے پاس رہی ہے اس لئے آپ کے درج بالا تبصرے سے میں متفق نہیں ۔
    اس فقیر کو کہیں اور فٹ کریں۔


    :x
     
    تجمل حسین نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. جوگی

    جوگی منتظم Staff Member

    ہاہاویسے یہ بات پاک فوج پر لاگو نہیں ہوتی۔
    کیوں کہ پاکستان کی تاریخ میں پاک فوج صرف دیکھتی نہیں رہی بلکہ ایک لمبے عرصے تک حکومت فوج کے پاس رہی ہے اس لئے آپ کے درج بالا تبصرے سے میں متفق نہیں ۔
    اس فقیر کو کہیں اور فٹ کریں۔


    :x

    ایک مشہور جملہ ہےایڈیٹرکا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں


    تسلی کیلئے دوبارہ  کہانی پڑھیں
    اور پھر  پاکستانی تاریخ پر نظرڈالیں
    پہلا مارشل لا تب لگا جب  پہلے سکندر مرزا نے غلام محمد سے زبردستی استعفی لیا اور پھر سارے اختیاات اپنے پاس جمع کر کے (کہانی کے مطابق   "، تو جو اس شہر کا رب بنا ہوا ہے")    بیٹھا تو ایوب خان صاحب نے  مداخلت کی (اور کہانی کے مطابق"مست بابا کا چہرہ بھیانک ہو گیا۔ وہ چلا کر بولا: ” دیگ کو اُنڈیل دو۔
    چولہے پر پانی ڈال دو۔‟) سکندر مرزا صاحب سے اسی طرح استعفی لے لیا گیا جیسے اس  نے غلام محمد ، اور یکے بعد بعد دیگرے وزرائے اعظم سے لیا تھا۔ جمہوریت کی دیگ الٹ گئئ۔ایوب خان صاحب کے دور میں پنج سالہ منصوبے شروع ہوئے، پاکستان کے دونوں بڑے ڈیم تعمیر ہوئے، اسلام آباد تعمیر ہوا، دارالحکومت  منتقل ہوا، بابائے قوم کا مزار تعمیر ہوا، وغیرہ وغیرہ


    پھر دوسری بار سیاست دانوں نے  پھر وہی ہلڑ بازی مچائی، اقتدار کس کو منتقل کیا جاتا ؟ سب ایک دوسرے پہ دانت نکوس رہے تھے، بنگالیوں کے دو وزیر اعظم  زبردستی معزول کیے گئے تھے، اب ان کی زبان پر جاگیردارانہ حملے کیے گئے، نتیجہ وہی نکلا ، اقتدار پھر فوج کے ہاتھ میں۔
    ادھر تم ، ادھر ہم  والانعرہ لگانے والے بھی کوئی قائد عوام نامی شخص تھے، جب بنگالیوں کو الیکشن میں اکثریت سے جیت کر بھی حکومت بنانے کا موقع نہ دیا گیا ، اور جمہوریت کے  مریدوں نے اپنے ہاتھوں جمہوریت کا خون کیاتو بنگالیوں نے بھی بغاوت کر دی،  نتیجہ بنگلہ دیش نکلا۔
    یحییٰ خان کے استعفی کے بعد  سول مارشل لا لگانے والے بھی تو کوئی قائد عوام ہی تھے۔
    پھر وہی ڈرامے بازی،  اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش ، نواب آف کالا باغ کے قتل کیس میں قائد عوام کی گردن پھنسی اور پھر فوج کو مداخلت کرنی پڑی۔


    [SIZE=26.666667938232422px]محمد خان جنیجو اور اس کے بعد کے وزرائے اعظم کے ساتھ کیا ہوا؟؟[/SIZE]​
    [SIZE=26.666667938232422px]بے نظیر کی حکومت آئی تو نواز شریف کے لانگ مارچ شروع ، دو سال بعد نواز شریف کی حکومت آئی تو نواز شریف کے لانگ مارچ شروع،  غلام اسحق خان کے ہاتھ میں 58 /2 بی تھی ، وہ دونوں کو یکے بعد دیگرے ٹھینگا دکھاتے رہے۔ دوسری بار بی بی جی نے آتے ہی اپنے خیر خواہ لغاری صاحب کو صدر کی سیٹ پر بٹھا دیا مگر پھر اسی خیر خواہ سے کیا پنگے بازی کی؟؟  جاری[/SIZE]​
     
    بینا نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. جوگی

    جوگی منتظم Staff Member

    لغاری صاحب کے ساتھ ایسا کیا پنگا  تھا کہ اسمبلیاں توڑ دی گئیں؟؟؟ بی بی  گئی پھر گنجا آیا، اس نے آتے ہی پھر وہی رسا کشی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس  سید سجاد علی شاہ کے ساتھ پنگا، آرمی چیف کو زبردستی رخصت کر کے جنرل پرویز مشرف کو  تیسرے نمبر سے پہلے نمبر پر لائے، قرض اتارو ملک سنوارو کا پیسہ اتفاق  سٹیل کو مضبوط کرنے کے کام آیا ۔ پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ چیف آف آرمی سٹاف سری لنکا کے دورے پر اور وزیر اعظم نے  برطرف کر کے سپہ سالار کا جہاز کراچی یا پاکستان کے کسی ائیر پورٹ پر اترنے  سے روک دیا(یہ کہانی کے مطابق وہی مقام ہے جب پاکستان کا رب بننے کی کوشش کی جا رہی تھی) پھرکہانی کے مطابق بابے نے کراچی ائیر پورٹ پر اترتے ہی جمہوریت کی نام نہاد دیگ الٹ دی،  رب بننے کی کوشش کرنے والا بابا حوالات میں آنسو بہاتا نظر آیا ، جان کے ایسے لالے پڑے کہ دس سال جلا وطنی کا معاہدہ کر کے بھاگ لیا۔۔۔۔


    لیکن میں ایک بار پھر کہوں گاکہ
    ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا اتنا ضروری بھی نہیں


    :p
     
    بینا نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. زبیر

    زبیر منتظم Staff Member

    ہاں اس سے ضرور متفق ہوں کہ ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
    آپ نے درج بالا تبصروں میں جو کچھ کہا وہ حقیقت ،لیکن فوج کو مست بابا بنانے میں آپ ناکام رہے ہیں،دیگیں تو واقعی الٹی،ہر کوئی جتنا لوٹ سکتا تھا ،لوٹا۔۔لیکن
    مراسلہ نگار کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
     
    تجمل حسین نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. بہت خوب۔۔۔۔۔ بہت اچھا اقتباس لیا گیا ہے۔ جو واقعی وطن عزیز کی عکاسی کرتا ہے لیکن میں بھی اس میں فقیر بابا کو تلاشنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ :)
     
    بینا نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں