1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

Jehanam afsana az qalam m mubin

'گوشہ ءِ ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از علی مجتبیٰ, ‏ستمبر 5, 2017۔

  1. علی مجتبیٰ

    علی مجتبیٰ مدیر Staff Member

    افسانہ کا نام جہنم
    رائٹر کا نام:۔ایم مبین
    تین دن میں پتہ چل گیا کہ مگن بھائی نےاسےکمرہ کرایےپر نہیں دیا بلکہ اسےکمرہ کرائےپر دینےکےنام پر ٹھگ لیا ہے۔اب سوچتا ہےتو اسےخود حیرت ہوتی ہےکہ اس سےاتنی بڑی غلطی کس طرح ہوگئی ؟ بس کچھ دیر کےلئےوہ اس بستی میں آیا ۔ مگن بھائی نےاپنی چال کا بند کمرہ کھول کر اسےبتایا 10×12کا کمرہ تھا ۔ جس کےایک کونےمیں کچن بنا ہوا تھا ۔ اس سےلگ کر چھوٹا سا باتھ روم جسےعرف عام میں موری کہا جاسکتا تھا ۔ کمرہ میں ایک دروازہ تھا جو تنگ سی گلی میں کھلتا تھا ۔ دو کھڑکیاں تھیں ہوا اور روشنی کا کافی اچھا انتظام تھا ۔ زمین پر رف لادی تھی ۔ کمرےکا پلاسٹر جگہ جگہ سےاکھڑا ہوا تھا لیکن سمینٹ کا تھا ۔ چھت پترےکی تھی ۔ گلی کےدونوں جانب کچےجھونپڑوں کا سلسلہ تھا جو دور تک پھیلا تھا ۔ وسط سےایک نالی بہہ رہی تھی ۔ جس سےگندہ پانی ابل کر چاروں طرف پھیل رہا تھا جس کی بدبو سےدماغ پھٹا جارہا تھا ۔ مگن بھائی کی وہ چال سات آٹھ کمروں پر مشتمل تھی ۔ اس کےذہن نےفیصلہ کیا کہ اسےاس شہر میں اتنا اچھا کمرہ اتنےکم داموں پر کرائےپر نہیں مل سکتا ہے۔ اس شہر میں اس سےاچھےکمرےکی توقع بھی نہیں رکھی جاسکتی تھی ۔ وہ فوراً کمرہ لینےپر راضی ہوگیا ۔دوسرےدن اس نےپچیس ہزار روپےمگن بھائی کو ڈپازٹ کےطور پر ادا کئی۔ مگن بھائی نےفوراً کرایہ کےمعاہدےکےکاغذات دستخط کرکےاس کےحوالےکردئے۔ بجلی اور پانی کا اپنی طور پر انتظام کرنےکےبعد اسےکرائےکےطور پر ہر ماہ مگن بھائی کو صرف سو روپےادا کرنےتھے۔ کرائےکا قرار نامہ صرف گیارہ ماہ کےلئےتھا لیکن مگن بھائی نےوعدہ کیا تھا وہ گیارہ ماہ کےبعد بھی اس سےوہ کمرہ خالی نہیں کرائےگا ۔ وہ جب تک چاہےاس کمرہ میں رہ سکتا ہے۔ اگر اس کا کہیں دوسری جگہ اس سےبہتر انتظام ہوجاتا ہےتو وہ اپنی ڈپازٹ کی رقم واپس لےکر کمرہ خالی کرسکتا ہے۔اس شام اپنےدوست کےگھر سےاپنا مختصر سا سامان لےکر دوست اور اس کےگھر والوں کو خدا حافظ کہہ کر وہ اپنےنئےگھر میں آگیا ۔ دو تین گھنٹےتو کمرےکی صفائی میں لگ گئےباقی تھوڑےسےسامان کو قرینےسےسجانےمیں ۔ کمرےمیں بجلی کا انتظام تھا ۔ اسےصرف بلب لگانےپڑے۔ کمرےکی صفائی سےوہ اتنا تھک گیا تھا کہ اس رات وہ بنا کھائےپئےہی سو گیا ۔ سویرےحسبِ معمول چھ بجےکےقریب آنکھ کھلی تو اپنےآپ کو وہ تر و تازہ محسوس کررہا تھا ۔بستی میںپانی آیا تھا ۔ گھر کےسامنےایک سرکاری نل پر عورتوں کی بھیڑ تھی ۔ ” پانی کا انتظام کرنا چاہیئے۔ “ اس نےسوچا ۔ لیکن پانی بھرنےکےلئےکوئی برتن نہیں تھا ۔ چہل قدمی کرتےہوئےاپنےگھر سےتھوڑی دور آیا تو اسےایک کرانےکی دوکان نظر آئی ۔ اس دوکان پر لٹکےپانی کےکین دیکھ کر اس کی بانچھیں کھل گئیں ۔ کین خرید کر وہ نل پر آیا اور نمبر لگا کر کھڑا ہوگیا ۔ نل پر پانی بھرتی عورتیں اسےعجیب نظروں سےگھور کر آپس میں ایک دوسرےکو کچھ اشارےکررہی تھیں ۔ اس کا نمبر آیا تو اس نےکین بھرا اور اپنےگھر آگیا ۔ نہا دھو کر کپڑےبدلےگھر میں وہ ناشتہ تو بنا نہیں سکتا تھا۔ ناشتہ بنانےکےلئےدرکار کوئی چیز بھی نہیں تھی ۔کسی ہوٹل میں ناشتہ کرنےکا سوچتا ہوا وہ گھر سےباہر نکل آیا ۔ سوچا ناشتہ کرنےتک آفس کا وقت ہوجائےگا تو وہ آفس چلا جائےگا ۔ اس دن وہ اپنےآپ کو بےحد چاک و چوبند اور خوش و خرم محسوس کررہا تھا ۔ ایک احساس بار بار اس کےاندر ایک کروٹیں لےرہا تھا کہ اب وہ اس شہر میں بےگھر نہیں ہے۔ اس کا اپنا ایک گھر تو ہے۔کل تک یہ احساس اسےکچوکتا رہتا کہ اس کےپاس ایک اچھی نوکری ہےلیکن رہنےکےلئےایک چھت نہیں ہے۔ وہ دوسروں کی چھت کےنیچےپناہ لئےہوئےہی۔ اور اس چھت کی پناہ کبھی بھی اس کےسر سےہٹ سکتی ہے۔ اسےاپنی قابلیت کی بنا پر اس شہر میں نوکری تو مل گئی تھی ۔ لیکن اس شہر میں اس کا نہ تو کوئی رشتہ دار تھا اور نہ شناسا ۔ اس نےڈیوٹی جوائنٹ تو کرلی لیکن رہائش کا سب سےبڑا مسئلہ کسی عفریت کی طرح اس کےسامنےمنہ پھاڑےکھڑا تھا ۔ اس مسئلےکا وقتی حل اس نےایک درمیانی درجےکےہوٹل میں ایک کمرہ کرائےسےلےکر نکال لیا ۔ کچھ دنوں میں ہی اسےمحسوس ہوا کہ اس کی تنخواہ میں وہ اس ہوٹل میں صرف رہ سکتا ہے‘ کھاپی نہیں سکتا ۔ اس لئےاس نےدوسرےسہارےکی تلاش شروع کردی ۔ اسےایک ہوسٹل میں سر چھپانےکی جگہ مل گئی ۔ دو چار مہینےاس نےاس ہوسٹل میں نکالے۔ لیکن ایک دن وہ سخت مصیبت میں پھنس گیا ۔ ایک دن پولس نےاس نےہوسٹل پر چھاپا مارا اور اس ہوسٹل کےسارےمکینوں کو گرفتار کرلیا ۔ اس ہوسٹل سےپولس کو منشیات ملی تھیں ۔ اس ہوسٹل میں کچھ غیر سماجی عناصر منشیات کا کاروبار کرتےتھے۔ بڑی مشکل سےوہ پولس کےچنگل سےچھوٹ پایا ۔وہ ایک بار پھر بےگھر ہوگیا تھا ۔ وہ اپنےلئےکسی چھت کی تلاش کررہا تھا کہ اچانک اس کی ملاقات ایک دوست سےہوگئی ۔ وہ دوست کافی دنوں کےبعد ملا تھا ۔ اس دوست کا اس شہر میں چھوٹا سا کاروبار تھا ۔ اس نےاپنا مسئلہ اس کےسامنےرکھا تو اس نےبڑےخلوص سےاس کو پیش کش کی کہ جب تک تمہارا کوئی انتظام نہیں ہوجاتا تم میرےگھر میں رہ سکتےہو ۔ انتظام ہونےکےبعد چلےجانا ۔ اسےاُس وقت اپنا وہ دوست ایک فرشتہ معلوم ہوا ۔ وہ اپنےاس دوست کےگھر رہنےلگا ساتھ ہی ساتھ اپنےلئےکوئی کمرہ ڈھونڈنےلگا ۔شہر میں کرائےسےمکان ملنا مشکل تھا ۔ مکان خریدنےکی اس کی استطاعت نہیں تھی ۔ جو مکان ملتےتھےان کا کرایہ اس کی نصف تنخواہ سےزائد تھا اس پر ڈپازٹ کی کثیر رقم کی شرط ۔ کچھ دنوں بعد تھک ہار کر اس نےسوچا کہ اسےایسےعلاقوں میں مکان تلاش کرنا چاہیئےجہاں کمروں کےدام کم ہوں بھلےہی وہ علاقےاس کےمزاج و معیار کےنہ ہوں ۔ اسےاس سےکیا لینا دینا ہے۔ اسےصرف رات میں ایک چھت چاہیئے۔ دن بھر تو وہ آفس میں رہےگا ۔اسےایک اسٹیٹ ایجنٹ نےمگن بھائی سےملایا ۔ مگن بھائی نےبتایا کہ بستی میں ان کی چال میں ایک کمرہ خالی ہےوہ پچیس ہزار روپےڈپازٹ پر دیں گے۔
    ” ٹھیک ہےمگن بھائی ! میں ڈپازٹ کا انتظام کرکےآپ سےملتا ہوں ۔ “ کہہ کر وہ چلاآیا اور پیسوں کےانتظام میں لگ گیا ۔ اتنےپیسوں کا انتظام بہت مشکل تھا ۔ اپنےشہر جاکر اس نےدوستوں اور رشتہ داروں سےقرض لیا اور گھر کےزیورات ایک بینک میں گہن رکھ کر قرض لیا اور پیسوں کا انتظامکرکےواپس آیا ۔ مگن بھائی نےکمرہ دکھایا اس نےکمرہ پسند کرکےپیسےمگن بھائی کو دئےاور رہنےلگا ۔شام کو جب وہ ضروری سامان سےلدا اپنےگھر آیا تو اپنےگھر کےقریب پہونچنےپر اس کےقدم زمین میں گڑ گئے۔ گلی میں چاروں طرف پولس پھیلی ہوئی تھی ۔
    ” کیا بات ہےبھائی ! یہ گلی میں پولس کیوں آئی ہے؟ “ اس نےایک آدمی سےپوچھا ۔
    ” ہوگا کیا ؟ دارو کےاڈےپر جھگڑا ہوا اس میں چاقو چل گئےاور ایک آدمی ٹپک گیا ۔ “ یہ کہتا ہوا وہ آدمی آگےبڑھ گیا ۔
    ” تو اس جگہ شراب کا اڈہ بھی ہے؟ “ سوچتا ہوا وہ اپنےگھر کی طرف بڑھا اور سامان پیروں کےپاس رکھ کر دروازہ کھولنےلگا ۔ سامان گھر میں رکھ کر وہ معاملہ کی تفصیلات جاننےکےلئےباہر آیا تو تب تک پولس جاچکی تھی اور لاش بھی اٹھوائی جاچکی تھی ۔ آس پاس کےلوگ جمع ہوکر اس واقعہ کےبارےمیں باتیں کررہےتھے۔
    ” ابھی تو پولس نےاڈہ بند کردیا ہے۔ کل پھر شروع ہوجائےگا ۔ “
    ” یہ اڈہ ہےکہاں ؟ “ اس نےپوچھا تو وہ لوگ اسےسر سےپیر تک دیکھنےلگے۔
    ” بابو کس دنیا میں ہو ؟ تم جس چال میں رہتےہو اسی میں تو دارو کا اڈہ ہے۔ “
    ” میری چال میں شراب کا اڈہ ؟ “ اس نےحیرت سےیہی بات دہرائی ۔
    ” ہاں ! نہ صرف شراب خانہ بلکہ ایک جُوئےکا اڈہ بھی ہے۔ ایک کمرےمیں منشیات فروخت ہوتی ہیں اور دوسرےدو کمروں میں دھندہ کرنےوالیاں رہتی ہیں ۔ “یہ سنتےہی اس کی آنکھوں کےسامنےتارےناچنےلگے۔ اس کی چال میں شراب ‘ جوئےاور منشیات کےاڈےہیں یہاں طوائفیں بھی رہتی ہیں اور اب وہ اسی چال میں رہ رہا ہے۔ اس دن تو اسےصرف اس بات کا پتہ چلا کہ وہ کیسی جگہ رہنےآیا ہےلیکن دوچار دنوں کےبعد اسےیہ پتہ چلا کہ وہاں رہنا کتنا بڑا عذاب ہے۔ لوگ بےدھڑک گھر میں گھس آتےتھےاور طرح طرح کی فرمائشیں کرتےتھے۔
    ” ایک بوتل چاہیئے۔ “
    ” ذرا ایک افیون کی گولی دینا ۔ “
    ” ایک گرَد کی پوڑی دینا ۔ “
    ” جمنا بائی کو بلانا ‘ آج اس کا فل نائٹ کا ریٹ دےگا ۔ “ وہ یہ سب سن کر اپنا سر پکڑ لیتا اور اس شخص کو پکڑ کر باہر کردیتا اور اسےبتاتا کہ اسےاس کی مطلوبہ چیز کہاں مل سکتی ہے۔ اس درمیان اسےپتہ چل گیا تھا کہ کہاں کون سا

    دھندہ چلتا ہےاور اس دھندےکا مالک کون ہے۔ دروازہ کھلا چھورنا ایک سر درد تھا اس لئےاس نےدروازےکو ہمیشہ بند رکھنےمیں ہی عافیت سمجھی ۔ لیکن دروازہ بند رکھنا تو اور بھی سر درد تھا ۔ دروازہ زور زور سےپیٹا جاتا ۔ جیسےابھی توڑ دیا جائےگا ۔ وہ جھلا کر دروازہ کھولتا تو وہی سوال سامنےہوتےتھےجو دروازہ کھلا ہونےپر اجنبیوں کےذریعہ گھر میں گھس کر پوچھےجاتےتھے۔ وہ سوچتا وہ اکیلا ہےصرف رات کو یہاس سونےکےلئےآتا ہےتو اس کا یہ حال ہی۔ اس کےبجائےوہ یا کوئی بھی شریف آدمی اپنی فیملی کےساتھ تو ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتا ہے۔یہاں اس کا رہنا محال ہےتو بھلا وہ اپنی فیملی یہاں لانےکےبارےمیں کس طرح سوچ سکتا ہے۔ ہر روز ایک نئی کہانی ‘ ایک نیا ہنگامہ اور ایک نیا واقعہ سامنےآتا تھا ۔ شرابی جواری آپس میں لڑ پڑتےاور یہ تو ایک عام سی بات تھی ۔ایک گاہک جمنا بائی کےگھر میں جانےکی بجائےسامنےوالےرگھو کےگھر میں گھس گیا اور اس کی بیوی سےچھیڑ خانی کرنےلگا ۔ پولس چھاپا مارنےآئی تو شراب کا اڈہ چلانےوالوں نےشراب کےایک دو کین پیچھےرہنےوالےگنپت کےگھر میں چھپا دئےپولس نےوہ کین ڈھونڈ نکالے۔اڈہ چلانےوالےتو بھاگ گئےلیکن بےچارہ گنپت اس جرم میں پکڑا گیا ۔سامنےکی شیاملہ بائی جمنا بائی کےکمرےکےپاس کھڑی تھی پولس نےجمنا بائی کےاڈےپر ریڈ کی اور جسم فروشی کرنےکےجرم میں شیاملہ کو پکڑ کر لےگئی ۔ وہ بڑی مشکل سےچھوٹ پائی ۔منشیات کا دھندا کرنےوالےسعید کےگھر میں منشیات پھینک گئےاور پولس سعید کےگھر سےمنشیات برآمد کرکےاسےاٹھالےگئی ۔ یہ سارےواقعات دیکھ کر اس کا دل دہشت کےمارےدہل جاتا تھا ۔ وہ سوچتا کہ ہوسکتا ہےیہ واقعہ کل اس کےساتھ بھی ہو ۔ غنڈےاس کےکمرےمیں منشیات پھینک جائیں یا شراب رکھ جائیں اور پولس اس کےگھر سےوہ چیزیں برآمد کرکےاسےبھی اسی طرح پکڑ کر لےجائے۔جمنا بائی اس کےکمرےکےسامنےکھڑی ہوکر کسی گاہک سےمول تول کررہی ہوگی اور پولس جمنا کو تو دھر لےگی اور اسےبھی اس جرم میں گرفتار کر کےلےجائےگی ۔ کہ وہ اس جگہ جسم فروشی کا دھندہ کرواتا ہے۔یہاں اس چھت کےنیچےرہنےسےتو بہتر ہےبےگھر آسمان کی کھلی چھت کےنیچےرہا جائے۔ وہاں رہتےہوئےدل میں صرف اسی کرب کا احساس ہوگا کہ وہ بےگھر ہےلیکن اس چھت کےنیچےرہ کر لمحہ لمحہ دہشت کا اسیر ہوکر تو نہیں جئےگا ۔ ان سب باتوں سےگھبرا کر اس نےایک فیصلہ کرلیا کہ اسےیہ گھر چھوڑ دینا چاہیئے۔ جب تک کوئی دوسرا انتظام نہیں ہوجاتا

     
  2. علی مجتبیٰ

    علی مجتبیٰ مدیر Staff Member

    بھلےاسےبےگھر رہنا پڑےگا لیکن وہ اس دہشت و عذاب سےتو بچا رہےگا ۔ وہ مگن بھائی کےپاس گیا اور اس سےصاف کہہ دیا ۔ ” میرا ڈپازٹ واپس کردیجئے۔ مجھےآپ کا کمرہ نہیں چاہیئے۔ “
    ” ارےکیسےواپس کرےگا ۔ ہمارا گیارہ مہینےکا ایگریمینٹ ہوا ہےاس لئےتم گیارہ مہینےسےپہلےوہ کمرہ خالی نہیں کرسکتا ۔ “
    ” تم گیارہ مہینےکی بات کرتےہو ۔ میں اس جگہ ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتا ۔ اپنی پوری چال شراب ، جوئے، منشیات اور طوائفوں کےاڈےچلانےوالوں کو کرائےپر دی ہےاور اس جگہ مجھ سےشریف آدمی کو بھی دھوکےسےکرائےپر رکھا ۔ تمہیں ایسا ذلیل کام کرتےہوئےشرم آنی چاہئے۔ میرےبجائےکسی شراب ، جوئے، منشیات اور جسم فروشی کا دھندہ کرنےوالےکو کرائےپر دےدیتے۔ “
    ” ارےبھائی ! ان لوگوں کو میں نےکمرےکرائےسےکہاں دئےہیں ۔ میں نےوہاں چال بنائی تھی اور اس لالچ میں کمرےنہیں دئےتھےکہ مجھےزیادہ ڈپازٹ اور کرایہ ملےگا ۔ وہ غنڈےبدمعاش لوگ تالہ توڑ کر ان کمروں میں گھس آئےہیں اور اپنےکالےدھندےکرنےلگے۔ میں نےصرف ایک شریف آدمی کو ایک کمرہ کرائےسےدیا تھا جو کچھ دنوں قبل وہاں کےماحول سےڈر کر بھاگ گیا ۔ اس کمرےپر بھی غنڈےقبضہ نہ کرلیں اس لئےمیں نےوہ کمرہ تمہیں کرئےپر دےدیا ۔ اب تم اسےخالی کرنےکی بات کرتےہو ۔ ارےبابا جاو

    ¿ ! غنڈوں نےتمہاری پوری چال پر قبضہ کرلیا اور تم نےپولس میں شکایت بھی نہیں کی ؟ “ دو ۔ تم وہ کمرہ چھوڑ دوگےاور میں تمہیں ڈپازٹ واپس کردوں گا تو اس کمرےپر کوئی بھی غنڈہ قبضہ کرلےگا ۔ مگن بھائی کی بات سن کر اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا ۔ اسےلگا مگن بھائی تو اس سےزیادہ مظلوم ہے۔ ” مگن بھائی ! غنڈوں نےتمہاری پوری چال پر قبضہ کرلیا اور تم نےپولس میں شکایت بھی نہیں کی ؟ “
    ” شکایت کرکےکیا مجھےاپنی زندگی گنوانی ہے۔ وہ سب غنڈےلوگ ہیں ان کےمنہ کون لگےگا ۔ پولس ان کا کچھ نہیں بگاڑےگی ۔ پولس ان سےملی ہوئی ہے۔ شکایت پر تھوڑی دیر کےلئےان کو اندر کرےگی وہ پھر آزاد ہوکر میری جان کےدشمن بن جائیں گے۔ اس لئےمیں نےیہ سوچ لیا کہ وہ میری چال ہےہی نہیں ۔ یہ سمجھ لیا کہ مجھےبزنس میں گھاٹا ہوگیا ۔ دیکھو اگر تم وہاں رہنا نہیں چاہتےتو کسی سےبھی اپنی ڈپازٹ کی رقم ڈپازٹ کےطور پر لےکر وہ کمرہ اسےدےدو ۔ مجھےکوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ میں اسےبھی بنا کرائےکا قرار نامہ بنا کر دےدوں گا ۔ “ مگن بھائی کی باتیں سن کر وہ چپ چاپ واپس آگیا ۔اس رات اسےرات بھر نیند نہیں آئی ۔ اس کےسامنےایک ہی سوال تھا ۔ وہ وہاں رہےیا چلا جائے؟ فی الحال تو ایسی صورتِ حال تھی ۔ وہ اس جگہ سےکہیں جا نہیں سکتا تھا ۔ وہاں رہنا ایک عذاب تھا ۔ لیکن وہ اتنا بھی بزدل ڈرپوک نہیں تھا کہ اس عذاب سےڈر کر فرار کی راہ اختیار کرلے۔ ہر طرح کی صورتِ حال کا سامنا کرنےکےلئےاس نےخود کو تیار کرلیا تھا ۔ اسےصرف رات میں ہی تو ان ذہنی کربوں کو جھیلنا پڑتا تھا ۔ دن میں تو وہ آفس میں رہتا تھا ۔ دن میں وہاں کیا ہوتا ہےیا جو کچھ ہوتا تھا ان سب باتوں کےسامنےوہ نہیں ہوتا تھا ۔ لیکن رات گھر آنےپر دن میں جو کچھ ہوتا تھا وہ ساری کہانی اسےمعلوم پڑجاتی تھی ۔دو شرابیوں نےاوشا کو چھیڑا ‘ ایک غنڈےنےاشوک کی بیوی لکشمی کی عزت لوٹنےکی کوشش کی ۔ غنڈوں میں جم کر مار پیٹ ہوئی تو کئی زخمی ہوئےاور پورا کمرہ تہس نہس ہوگیا ۔ آج غنڈوں کےٹکراو

    ¿ سامنےرہنےوالےلکشمن کےدس سالہ لڑکےکو گولی لگ گئی اسےاسپتال لےجایا گیا اب اس کی حالت بہت نازک ہے۔جو لوگ اسےیہ کہانیاں سناتےوہ ان پر برس پڑتا تھا ۔” کب تک تم لوگ یہ سب برداشت کرتےرہو گے۔ تم لوگ شریف ہو ۔ یہ محلہ شریفوں کا ہےاور غنڈوں نےاس محلےپر قبضہ کرکےاسےشریفوں کےرہنےکےلائق نہیں رکھا ۔ اگر تم چپ رہےاور چپ چاپ سب برداشت کرتےرہےتو تم لوگوں کےساتھ بھی یہی ہوگا اور ہمیشہ ہوتا رہےگا ۔ اگر اس سےنجات حاصل کرنی ہو تو اس کےخلاف احتجاج کرو ۔ غنڈوں بدمعاشوں کےخلاف متحد ہوجاو
    ¿ شکایت پر پولس کو کاروائی کرنی ہی پڑےگی اور یہ سب کچھ رک جائےگا ۔ “
    ” معین بھائی ! ہم یہ نہیں کرسکتے۔ “ اس کی باتیں سن کر وہ سہم گئے۔ ” اگر ہم نےایسا کیا تو ممکن ہےپولس کاروائی کرے۔ لیکن وہ زیادہ دنوں تک غنڈوں کو لاک اپ میں نہیں رکھ سکےگی ۔ شکایت کرنےپر وہ لوگ ہمارےدشمن ہوجائیں گے۔ اور آزاد ہوتےہی ہم سےبدلہ ضرور لیں گی۔ اس لئےہم سوچتےہیں ان غنڈوں سےکیا الجھا جائے۔ جو کچھ ہورہا ہےچپ چاپ برداشت کرنےمیں ہی عافیت ہے۔ “
    ” یہی تو آپ لوگوں کی کمزوری ہے۔ احتجاج کی ہمت اور جرا

    ¿
    ¿کرسکتےہیں ؟ “ وہ غصےسےبولا ۔ ” اگر میرےساتھ ایک دن بھی ایسا کچھ ہوا تو میں بالکل برداشت نہیں کروں گا ۔ جو میرےساتھ ایسی ویسی حرکت کرےگا ‘ اسےمزہ چکھا دوں گا ۔ “ دوسرےدن وہ شام کو آفس سےآیا تو اسےچار پانچ آدمیوں نےگھیر لیا ۔ ان کی صورت و شکل ہی ظاہر کررہی تھی کہ وہ غنڈےہیں ۔
    ” اےبابو ! کیوں بہت لیڈر بننےکی کوشش کررہا ہے؟ ہم لوگوں کےخلاف بستی والوں کو بھڑکا رہا ہے۔ تُو نیا نیا ہےاس لئےتجھےہماری طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔ یہ لوگ پرانےہیں اس لئےان لوگوں کو ہماری طاقت معلوم ہے۔ اس لئےیہ کبھی ہم سےنہیں الجھیں گے۔ اگر یہاں رہنا ہےتو خیریت اسی میں ہےکہ تم بھی پرانےبن جاو

    ¿
    ¿ ہونےدو ۔ “ ایک غنڈہ اسےگھورتا ہوا بولا ۔
    ” دادا ! یہ باتوں سےنہیں مانےگا ۔ ایک دو ہڈی پسلی ٹوٹےگی تو ساری لیڈری بھول جائےگا ۔ اسےابھی مزہ چکھاتا ہوں ۔ “ ایک غنڈےنےیہ کہتےہوئےاپنی ہاکی اسٹک ہوا میں لہرائی ۔
    ” نہیں ! آج کےلئےاتنی وارننگ کافی ہے۔ “ اس غنڈےنےہاکی والےکو روک دیا ۔ ” اس کےبعد اس نےہوشیاری کی تو میری طرف سےاس کی اور دو چار ہڈیاں توڑ دینا ۔ “ یہ کہتا ہوا وہ سب کو لےکر چل دیا ۔وہ سناٹےمیں آگیا ۔ اس کا سارا جسم پسینےمیں شرابور ہوگیا ۔ اسےایسا محسوس ہورہا تھا جیسےکئی ہاکی اسٹک اس کےجسم سےٹکرائی ہیں ۔ اور اس کا جسم درد کا پھوڑا بنا ہوا ہے۔ اسےرات بھر نیند نہیں آئی ۔ آنکھوں کےسامنےغنڈوں کےچہرےگھومتےاور کانوں میں ان کی وارننگ گونجتی رہی ۔ اگر آج وہ غنڈےہاتھ اٹھادیتےتو ‘ وہ کس طرح ان سےاپنا بچاو

    ¿
    اس کےذہن میں ایک ہی بات چکرا رہی تھی ۔ جو آج ٹل گیا ہےوہ کل بھی ہوسکتا ہے۔ اس سےبچنےکا ایک ہی طریقہ ہے۔ چپ چاپ آنکھیں بند کرکےوہ یہاں رہےاور جو کچھ ہورہا ہےاس سےلا تعلق بن جائےتو اسےکبھی کوئی خطرہ نہیں ہوگا ۔ لیکن وہاں رہنا بھی کسی جہنم میں رہنےسےکم نہیں تھا ۔آئےدن غنڈوں کےجھگڑے، فساد ، شرابی ، نشہ باز ، جواری اور بدکار لوگوں کا بےدھڑک گھر میں گھس آنا یا بدتمیزی سےدروازہ پیٹنا ، پولس کےریڈ الرٹ ‘ ریٹ میں غنڈےبدمعاشوں کا تو نکل بھاگنااور شریفوں کا پکڑا جانا ۔ بات بات پر چاقو چھریوں کا چلنا ، آس پاس رہنےوالوں کی بیویوں ، ماو

    ¿
    وہ سوچنےلگا کہ کسی کو یہ کمرہ ڈپازٹ پر دےکر اس سےاپنی رقم لےکر اس جہنم سےنکل جائے۔ لیکن پھر سوچتا کہ وہ اکیلا اس جہنم میں رہ سکتا ہےلیکن کوئی شریف بال بچےاور فیملی والےشخص کو اس جہنم میں ڈالنا کیا مناسب ہوگا ؟ اس کا ضمیر اس بات کےلئےراضی نہیں ہوپاتا تھا اور اسےاس جہنم میں رہنےکےلئےخود سےسمجھوتہ کرنا پڑا

     

اس صفحے کو مشتہر کریں