1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر۔۔۔۔

'متفرق' میں موضوعات آغاز کردہ از بینا, ‏مئی 19, 2017۔

  1. بینا

    بینا مدیر Staff Member

    انسان کو پرکھنے کا پيمانہ, ظاہر يا باطن ۔۔
    وہ گاڑی سے اتری ، انداز سے کافی مغرور لگ رہی تھی۔ اس کو ديکھنے والا کوئی بندہ بھی يہ راۓ قائم کيے بغير نہيں رہ سکتا تھا ۔ اتنے ميں ايک 7, 8 سال کی بچی ننگے پاؤں ، ملگجے سے حليے ميں اس کی طرف لپکی ۔ نومبر کے مہينے ميں وہ بچی ننگے پاؤں اس ٹھنڈی سڑک پرکھڑی تھی جو مٹی اور پتھروں سے اٹی ہوئی تھی اور اس کے پاؤں انتہائی گندے ہو رہے تھے۔ اس خاتون نے دائيں بائيں نظر دوڑائی ، يوں لگا جيسے وہ بچی کو بھگانا چاہ رہی ہے ۔ يا جيسے کچھ ڈھونڈ رہی ہے ۔ اچانک وہ بچی کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کر کے سڑک کراس کرنے لگی۔ ۔ وہ معصوم بچی بھيک کی آس ميں بغير کچھ پوچھے ، کچھ کہے اس کے پيچھے چل پڑی ۔ ميں بھی تھوڑے سے فاصلے سے اس کے پيچھے پيچھے چلی کہ ديکھوں تو سہی کہاں جا رہی ہے يہ مغرور خاتون۔ سڑک پار 40, 50 ميٹر کے فاصلے پر ايک جوتوں کی دکان کا بورڈ نظر آ رہا تھا۔ اس کا رخ اس طرف تھا۔
    يہ ايک براندڈ دکان تھی ۔ وہ بچی کو ساتھ لے کر سيڑھياں چڑھی اور اندر داخل ہوئی ۔ ميں بھی پيچھے پيچھے ہی تھی ۔ سيلز مين ايک باوقار سی خاتون کو آتا ديکھ الرٹ ہو گۓ ۔ اس خاتون نے انہيں سلام کيا )حيرت کا پہلا جھٹکا( اور اس بچی کے ناپ کے بوٹ دکھانے کا کہا ۔ سيلز مين نے حيرانی سے اسے ديکھا اور تصديق چاہی کہ اس بچی کے ۔ خاتون نے اثبات ميں سر ہلايا ۔ سيلزمين نے کہيں سے دو لفافے برآمد کيے جو اس بچی کے پاؤں پر چڑھاۓ تاکہ اس کے پاؤن پر لگا گرد وغبار ان کے برانڈڈ بوٹ کو گندہ نہ کر دے ۔ بچی منہ کھولے حيرت زدہ آنکھوں سے اس بوٹ کو ديکھ رہی تھی جس ميں اس کا پاؤں سنڈريلا کے پاؤں کی طرح فٹ آ گيا تھا ۔ خاتون نے بوٹ اوکے کر ديے تو سيلزمين انہيں اتارنے لگا ۔ خاتون نے اسے بوٹ اتارنے سے منع کيا اور بچی سے کہا ، بيٹا تم جاؤ ۔ ) حيرت کا دوسرا جھٹکا(۔ وہ بچی تو اچھلتی کودتی اپنے پاؤں کو ايک سٹائل سے زمين پر مارتی دکان سے باہر بھاگ گئی اور باہر کھڑے ہو کر کبھی ايک زاويے سے اپنے بوٹوں کو ديکھتی ، کبھی دوسرے زاويے سے ۔ اس کے چہرے پر جو خوشی تھی وہ اس کے ايک ايک انداز سے جھلک رہی تھی۔
    سيلز مين حيران پريشان کھڑا تھا ۔ اس خاتون نے اس سے کہا ۔ محترم آپ فکر نہ کريں ، ميں ان جوتوں کی پے منٹ کروں گی۔ وہ بولا ، ميم ، ميں سمجھا تھا کہ آپ کو اس بچی کے ناپ کے بوٹ اپنے بچی کے ليے چاہييں اس ليے بہت مہنگے اور اچھے والے بوٹ دکھاۓ تھے ، آپ نے اس بچی کے ليے لينے تھے تو کوئی بھی ہلکی قيمت والے بوٹ چل جاتے ۔ خاتون مسکرا دی اور کہا کچھ نہيں ۔ کاؤنٹر پر آئی اور ان بوٹوں کی قيمت ادا کی اور خاموشی سے باہر نکل گئی۔ )حيرت کا تيسرا جھٹکا(۔
    يہ سچی کہانی ہے اور ميرے سامنے پيش آئی ۔ اسے بيان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہم نے وہ ايک پيمانہ جو اميروں کے ليے بنا ليا ہے کہ وہ غريبوں کی مدد نہيں کرتے ، کبھی کبھی غلط بھی ہو جاتا ہے ۔ کسی کے ظاہری حليے سے اس کی شخصيت کا اندازہ نہيں لگانا چاہيے ۔ کيا پتا اس کے اعمال ہم سے زيادہ اچھے ہوں ۔ کيا معلوم اس کا کون سا عمل ہمارے کس عمل سے زيادہ شرف قبوليت پا لے ۔
    اللہ تعالی ہميں بھی ايسی نيکی کی توفيق دے ۔ جس سے کسی کو حقيقی خوشی ملے ۔ آمين

    صبا


    منقول​
     
  2. عمراعظم

    عمراعظم یونہی ایڈیٹر Staff Member

    کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
    خدا مہرباں ہو گا عرشِ بریں پر

    سبق آموز،نیکی اور انسانیت کی ترغیب دیتی خوبصورت تحریر۔ اللہ ہم سب کو انسانوں کے دکھوں اور ضروریات پورا کرنے کی توفیق و استطاعت عطا فرمائے۔آمین
    شکریہ محترمہ @بینا
     
    بینا نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. بینا

    بینا مدیر Staff Member

    حوصلہ افزائی پر متشکرم عمر بھائی
     

اس صفحے کو مشتہر کریں