1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

ٹھکانہ افسانہ از قلم ایم مبین tahkana afsana az qalam m mubin

'گوشہ ءِ ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از علی مجتبیٰ, ‏ستمبر 6, 2017۔

  1. علی مجتبیٰ

    علی مجتبیٰ مدیر Staff Member

    افسانہ کا نام ٹھکانہ

    مصنف کا نام۔ ایم مبین
    سورج چڑھتا جا رہا تھا لیکن بدلو ابھی تک نہیں آیا تھا ۔

    سڑک پر ٹریفک شباب پر تھی ۔ ڈیوٹی پر جانے والوں کے غول تیز تیز قدموں سے سڑک کے کنارے یا سڑک کو پار کر کے ریلوے اسٹیشن یا بس اسٹاپ کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ اس کے اطراف دو ، تین دوکانیں لگ چکی تھیں ۔اس کے وہ ساتھی اپنی جگہ اور سامان ان دوکانداروں کے حوالے کر کے اپنے اپنے کاموں پر جا چکے تھے ۔ لیکن بدلو کے نہ آنے کی وجہ سے وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پایا تھا ۔

    سامنے وا لی سڑک پر لگے ایک سرکاری نل پر سویرے جاگنے کے بعد اس نے اپنے ہاتھ منہ دھوئے تھے ۔ اپنا بستر تہہ کر کے اسے رسیوں سے باندھ کر ٹن کی پیٹی کے اوپر رکھا تھا اور گٹر کے اوپر رکھی لکڑیوں کے ان ٹکڑوں پر جن پر وہ رات کو سوتا تھا بیٹھ کر بدلو کا انتظار کرنے لگا تھا ۔ اس دوران چائے والا سامنے سے گذرا تو اس نے اسے آواز دے کر چائے مانگی تھی ۔

    وہ اس چائے والے کی چائے کبھی نہیں پیتا تھا ۔ وہ چائے والا اس جگہ سے گذرتے ہوئے اکثر اس سے پوچھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔’’ بابو جی ! چائے چاہیے ؟‘‘

    لیکن وہ انکار میں سر ہلا دیتا تھا ۔ اس وجہ سے اس چائے والے نے اسے چائے کے لیے پوچھنا چھوڑ دیا تھا ۔ دراصل وہ چائے اور ناشتہ سامنے والی ہوٹل میں لیتا تھا ۔ بدلو کے حوالے اپنی جگہ کر کے وہ سیدھا اس ہوٹل میں جاتا اور ناشتہ کر تا ،چائے پیتا تھا ۔

    لیکن بدلو کے آنے میں تاخیر ہوگئی اور اسے چائے کی طلب محسوس ہونے لگی تو مجبوراً اسے اس چائے والے کو آواز دینی پڑی ۔ چائے پی کر اس نے اپنے پر چھانے والی سستی دور کی ۔ جتنا وقت ہوگیا تھا اس کے مطابق یہ طے ہوگیا تھا اب بدلو نہیں آنے والا ۔

    اس حرامی نے کل بتایا بھی نہیں کہ وہ کل نہیں آئے گا ؟ ورنہ میں کوئی دوسرا انتظام کر لیتا ۔ بدلو کے نہ آنے کا مطلب وہ جانتا تھا ۔ آج دن بھر اسے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ آج وہ اپنے کام پر بھی نہیں جاپائے گا ۔ آج وہ ایک لمحے کے لیے بھی اس جگہ سے ہل نہیں پائے گا ۔ اسے اپنی جگہ اور سامان کی حفاظت کرنی پڑے گی ۔ جھلا کر اس نے اپنا تہہ کیا ہوا بستر دوبارہ لکڑیوں کے فرش پر بچھا دیا اور بستر پر لیٹ گیا لیکن لیٹنے کا نہ تو وقت تھا اور نہ حالات ۔

    دھوپ تیز ہو رہی تھی اور اس کی تیز کرنیں جسم میں چبھنے لگی تھیں ۔ اس لیے نیند تو آنے سے رہی ۔ وہاں بیٹھنا بھی اس کے لیے مشکل ہوگیا ۔ اس نے اپنی ٹن کی پیٹی اور دوسرا سامان بچھانے والے بستر پر رکھے اور پڑوس میں جس ہاکر نے دوکان لگا رکھی تھی اس سے بولا۔۔۔۔۔۔۔ ’’ذرا میرے ان سامان کا دھیان رکھیو ! میں ناشتہ کر کے آتا ہوں ۔‘‘

    ’’ٹھیک ہے بابو جی ! آپ بے فکر جائیے ‘‘۔۔۔۔۔۔ہاکر نے جواب دیا ۔۔۔۔’’ کیوں آج بدلو نہیں آنے والا ہے کیا ؟‘‘

    ’’پتہ نہیں !‘‘ اس نے جواب دیا ۔۔۔’’وقت کافی ہوگیا ہے اب وہ آنے سے رہا ۔‘‘

    بدلو ایک حجام تھا ۔ وہ شہر کی کسی جھونپڑ پٹی میں رہتا تھا اور اس کی اس جگہ پر اپنی دکان لگاتا تھا ۔ وہاں پر وہ آنے جانے والے راہگیروں کی داڑھی ، کٹنگ یا حجامت کرتا تھا ۔ اسے بدلو روزانہ اس جگہ کا۵۰؍ روپیہ کرایہ دیتا تھا ۔ اس طرح یہ جگہ اس کے لیے دوہرا فائدہ دیتی تھی ۔ رات میں وہ اس جگہ آرام کرتا تھا اور دن مین اس جگہ کا استعمال کر کے بدلو اسے۵۰؍ روپیہ کرایہ دیتا تھا ۔ اس طرح بدلو سے اس کے دو فائدے تھے ۔

    ایک تو اسے روزانہ کے۵۰؍ روپیہ کی آمدنی ہوجاتی تھی دوسرا بدلو اس کی جگہ اور سامان کی حفاظت بھی کرتا تھا ۔ اس کے لیے وہ جگہ اپنی جان سے زیادہ قیمتی تھی۔ ممبئی میں چھوٹی سی جگہ بھی ہر کسی کے لیے جان سے بڑھ کر ہوتی ہے ۔ ویسے وہ جگہ بھی نہیں تھی ۔ اس نے ایک سڑک کے کنارے کی بڑی سی گٹر پر لکڑیاں ڈال کر اپنے سونے کے لیے ایک چھوٹا سا پل بنا لیا تھا۔وہ شہر کا مصروف علاقہ تھا۔

    لیکن اس جگہ کی بناوٹ ایسی تھی کہ اس کی طرف نہ کسی کا دھیان جاتا تھا نہ ابھی تک کسی نے اس جگہ کی اہمیت کو سمجھا تھا ۔ وہا ں سے ریلوے لائن گذرتی تھی اور اسٹیشن قریب تھا ۔ اس لیے اس جگہ ایک لمبی سی دیوار بنی ہوئی تھی ۔ دیوار سے لگ کر ایک بڑی سے گٹر تھی ۔ گٹر کے کنارے ایک چوڑا سا فٹ پاتھ بنا ہوا تھا ۔ اور فٹ پاتھ سے لگ کر وہ سڑک تھی جس پر دونوں جانب سے کاروں ، گاڑیوں ،بسوں ،سڑک کی آمد و رفت جاری رہتی تھی ۔

    گٹر دراصل ایک نالہ تھا جو پتہ نہیں کہاں کہاں سے ساری دنیا کی گندگی اپنے ساتھ بہا کر لاتا تھا اور وہاں سے گذرتا تھا ۔ اس گندی سی گٹر سے دماغ پھاڑ دینے والی بدبو اٹھتی رہتی تھی ۔ فٹ پاتھ سے جو بھی گذرتا تھا گٹر سے اٹھنے والی بدبو اس کا دماغ پھاڑ کر رکھ دیتی تھی اور وہ اس بدبو سے بچنے کے لیے گھبرا کر فٹ پاتھ چھوڑ کر سڑک پر اتر آتا تھا ۔ اس گٹر پر اس نے اپنے سونے ،رہنے کا ٹھکانہ بنا لیا تھا ۔ اسے اس جگہ ٹھکانہ بنانے کا مشورہ اس کے ایک گائوں کے دوست دولو نے دیا تھا ۔

    ’’دیکھو بھیا منگت رام ! ممبئی آئے ہو اور پیسہ کمانا ہے تو یہاں اتنے سمجھوتے کرنے پڑیں گے کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے ۔ اب تم ہی دیکھو ، تمہیں کام تو مل گیا ہے لیکن سرچھپانے کے لیے جگہ نہیں ہے اور تمہیں وہ جگہ محنت مزدوری کرتے ہوئے دو پانچ سال ملنے والی بھی نہیں ۔ اس لیے میرے ساتھ چلو ، میں تمہیں جگہ اور سر چھپانے کا ٹھکانہ بنانے کا استھان بتاتا ہوں ۔ ابھی لوگوں کو اس بارے میں پتہ نہیں چلا ہے اس لیے جگہ پر تم قبضہ کر لو ورنہ بعد میں ایک انچ بھی جگہ نہیں ملے گی ۔‘‘

    اور وہ اسے اپنے ساتھ اس جگہ لے آیا ۔ گٹر کے دونوں کناروں پر اس نے لکڑیوں اور پرانی سلاخوں سے ایک پل بنا کر۵،۶فٹ کی جگہ بنا لی تھی ۔ گٹر کے کنارے اس کی ٹن کی پیٹی ،بستر اور کچھ ضروری برتن رکھے ہوئے تھے ۔ یہ اپنا ٹھکانہ ۔۔۔۔۔ دن بھر محنت مزدوری کرتے ہیں ۔رات میں آکر بستر لگا کر اس جگہ آرام سے سو جاتے ہیں ۔ یہاں کسی کا ڈر نہیں ہوتا ہے ۔ ایسی نیند آتی ہے جیسے سسرے اپنے گھر میں اپنے کھاٹ پر سوتے ہیں ۔

    جب اس نے دولو کی جگہ دیکھی تو اسے جگہ بری نہیں لگی ۔ ادھر ادھر سونے ، پولیس اور غنڈوں کی مار کھانے سے تو یہ جگہ اچھی ہے لیکن جیسے ہی وہ قریب گیا گٹر سے اٹھنے والا ایک بدبو کا بھبھکا اس کے ناک کے ذریعے سیدھا اس کے دماغ میں داخل ہوگیا اور اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے دماغ کے پر خچے اڑ گئے ہیں ۔

    ’’دولت رام ! یہاں تو بہت بدبو ہے ۔ اس بدبو میں تم کس طرح سوتے ہوں گے اور رات میں مچھر بھی بہت کاٹتے ہوں گے ۔‘‘

    ’’ارے بھیا ! یہ ہمارا گھر یا مالک کا فلیٹ تو نہیں ہے جہاں نہ بدبو کا گذر ہو اور نہ مچھر کاٹے ۔ اتنا سب تو برداشت کرنا ہی پڑے گا ۔‘‘ دولو کی بات سن کر اس نے بھی اس جگہ کو اپنا ٹھکانہ بنانے کا طے کر لیا ۔

    اس نے ادھر ادھر سے لکڑی کے ٹکڑے ،لوہے کی سلاخیں ، خالی ڈبے جمع کیے اور دونوں کی محنت کے بعد آخر اس گٹر پر ایک۴،۵فٹ کا پل بنانے میں کامیاب ہو گیا ۔ پہلی رات وہ جب اپنے نئے ٹھکانے پر سویا تو رات بھر اسے ایک جھپکی بھی نہیں آسکی ۔ رات بھر وہ بے چینی سے کروٹیں بدلتا رہا ۔ اٹھ کر سڑک کے کنارے ٹہلتا رہا اور ناک پر رومال رکھ کر گٹر سے اٹھنے والی بدبو کے جھونکوں کا اثر کم کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔

    اس سے کچھ فاصلے پر دولو گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا ۔ اسے دولو کی نیند پر حیرت ہو رہی تھی ۔ اس کے لیے اس جگہ ایک لمحہ بھی گذارنا محال ہو رہا ہے اور دولو آرام سے خراٹے لے رہا ہے لیکن پھر اسے محسوس ہوا ۔ یہ اس کا پہلا دن ہے ابھی وہ ان باتوں اور چیزوں کا عادی نہیں ہے ۔ دولو کو ان باتوں کی عادت ہو چکی ہے ۔اس لیے وہ گھوڑے بیچ کر سو رہا ہے ۔ دھیرے دھیرے جب اسے بھی گٹر کی بدبو سہنے کی عادت ہو جائے گی تو وہ بھی دولو کی طرح آرام سے خراٹے لے گا ۔

    دوسرے دن جب دولو نے اس سے پوچھا ۔۔ ۔۔۔’’کہو رات کیسی گذری ؟‘‘

    ’’ایک لمحہ کے لیے بھی سو نہیں سکا ۔‘‘ تو اس نے جواب دیا ،

    ’’کوئی بات نہیں شروعات میں میں بھی تین دنوں تک مسلسل ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سو پایا تھا لیکن نیند تو آخر نیند ہے وہ سولی پر بھی آ جاتی ہے ۔چوتھے دن جو سویا تو سویرے کی خبر لی ۔ مچھر اور گٹر کی بدبو میرا کچھ نہیں بگاڑ سکے ۔ تب سے یہی معمول ہے ۔رات کو جو سوتا ہوں تو سویرے ہی آنکھ کھلتی ہے ۔‘‘

    اس کے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ چوتھے دن جو گھوڑے بیچ کر سویا تو سویرے ہی جاگا ۔ چار دنوں کے بعد کافی گہری نیند آئی تھی ۔اس لیے وہ خود کو برا تر و تازہ محسوس کر رہا تھا ۔ دن میں دونوں اپنے اپنے کام کے لیے چلے جاتے تھے ۔ ان کا سارا سامان اسی طرح ٹھکانے پر پڑا رہتا تھا ۔ ایک دو بار ان کا سامان چوری بھی ہو گیا لیکن سامان رکھنے کی کوئی متبادل جگہ نہیں تھی ۔ اس لیے مجبوراً انھیں سامان اپنے ٹھکانوں پر ہی رکھنا پڑتا تھا ۔ وہ دانستہ وہاں پر ایسا سامان رکھتے تھے جن کے چوری ہونے کا کوئی ڈر نہ ہو یا اگر سامان چوری بھی ہو جائے تو کوئی ہرج نہ ہو ۔

    دھیرے دھیرے ان کی طرح بے گھر لوگ بھی اس گٹر پر اپنے ٹھکانے بنانے لگے اور دیکھتے دیکھتے سڑک کے کنارے کی وہ گٹر پوری طرح آباد ہو گئی ۔ اس گٹر پر اب نہ صرف ان کے جیسے۳۰،۴۰؍ لوگ رہتے تھے بلکہ کئی خاندان بھی آباد ہوگئے تھے ۔ اس طرح سامان کی چوریوں کا خطرہ بھی ٹل گیا تھا کیونکہ اتنے لوگوں میں کوئی نہ کوئی تو وہاں رہتا تھا ۔ وہ سامان کی حفاظت کرتا تھا اور لوگ اپنے خاندان کے ساتھ وہاں آباد ہوگئے تھے وہ لوگ تو سب کے سامان کی دیکھ بھال کرتے تھے لیکن سکھ کے دن جیسے بیت گئے تھے ۔

    بارش شروع ہوگئی تھی اور موسلادھار بارش ہونے لگی تھی ۔ اب ان کا ٹھکانہ سر چھپانے کے لائق نہیں تھا ۔ اوپر سے مسلسل پانی برستا تھا ۔ سر پر کوئی چھت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی اپنے ٹھکانے پر سو ہی نہیں پاتا تھا ۔ سبھی لوگوں نے رات میں بارش کے پانی سے بچنے کے لیے اپنے اپنے ٹھکانوں کے اوپر پلاسٹک وغیرہ باندھ لیا تھا ۔ اس طرح اوپر سے پانی ان کے ٹھکانوں کی جگہ پر نہیں آپا تا تھا لیکن چاروں طرف کھلی جگہ ہو تو پانی اندر گھس ہی جاتا تھا ۔ اس سے بچنے کے لیے انھوں نے ایک نیا طریقہ دھونڈ نکالا تھا ۔ وہ بستر بچھا کر اپنے اوپر پلاسٹک یا تارپول کا کوئی بڑا سا ٹکڑا اوڑھ کر اس کے اندر دبک کر سو جاتے تھے ۔

    بارش کا پانی آتا اور گرتا بھی تو پلاسٹک یا اوڑھے تارپول پر گرتا اور بہہ جاتا تھا ۔ ان کی نیند میں کوئی خلل نہیں پڑھتا تھا لیکن یہ ترکیب زیادہ دن تک کامیاب نہیں ہو سکی ۔ بارش کے زور کے ساتھ ہی اس جگہ کے حالات بھی تبدیل ہو گئے ۔ گٹر بارش کے پانی سے نہ صرف بھر جاتی بلکہ ابلنے لگتی اور گٹر کا پانی ابل کر فٹ پاتھ اور سڑک پر پہنچ جاتا اور ان کا ٹھکانہ اور سارا سامان زیر آب ہوجاتا ۔ کبھی کبھی تیز بارش کی وجہ سے اس کی مخالف صورت حال ہو جاتی ۔ سڑکوں پر پانی جمع ہو جاتا اور سڑکوں کا پانی بہہ کر فٹ پاتھ اور پھر گٹر میں پہنچ جاتا اور ان کے ٹھکانوں پر دو دو فٹ پانی ہوتا ۔
     
  2. علی مجتبیٰ

    علی مجتبیٰ مدیر Staff Member

    ایسی صورت میں وہاں سونا تو دور جاگنا بھی مشکل ہوجاتا تھا ۔ اس کا بھی انھیں ایک راستہ مل گیا تھا ۔ اس گٹر کے مکینوں کو تھوڑی سی رشوت کے بدلے میں ریلوے اسٹیشن کے ایک نسبت کم آمد و رفت والے پلیٹ فارم کے شیڈ میں بارش کے دنوں میں سونے کی اجازت مل گئی تھی لیکن شرط یہ تھی کہ وہ رات۱۲؍ بجے کے بعد سونے کے لیے آئیں جب مسافروں کی بھیڑ ختم ہو جاتی ہے اور سویرے۵؍ بجے سے قبل پلیٹ فارم چھوڑ دیں تا کہ ان کی وجہ سے مسافروں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔

    بارش کے بعد وہ اس متبادل ٹھکانے سے دوبارہ اپنے اپنے ٹھکانوں پر منتقل ہو گئے ۔ اب ان کے لیے ایک نئی راہ کھل گئی تھی ۔فٹ پاتھ پر دوکانیں لگانے والے کئی ہاکر ان سے درخواست کرنے لگے تھے کہ وہ انھیں ان کی جگہ پر دوکانیں لگانے دیں ۔اس کے بدلے میں وہ انھیں کرایہ دیں گے ۔ اس کے لیے اور اس جیسے لوگوں کے لیے تو یہ بڑی خوشی کی بات تھی کیونکہ نہ صرف ان کے ٹھکانوں کی اہمیت بڑھ گئی تھی بلکہ ان کی قیمت بھی بڑھ گئی تھی ۔ خالی جگہ دیکھ کر غنڈے ان کی جگہوں پر قبضہ کر لیتے تھے اور مار پیٹ پر اتر آتے تھے ۔ جو طاقت ور ہوتا ٹھکانہ اس کے قبضے میں چلا جاتا تھا ۔ غنڈوں کی طاقت کے آگے ٹھکانے کے مالک کو مجبوراً ٹھکانہ چھوڑ نا پڑتا اور غنڈے اسے کسی آدمی کے ہاتھوں فروخت کر دیتے یا وہاں اپنا کوئی کاروبار شروع کر دیتے ۔

    اگر کوئی غنڈوں کا مقابلہ کر کے ان کی پٹائی کر نے میں کامیاب ہو جاتا تو پھر وہ شیر بن کر جیتا تھا ۔ پھر کوئی غنڈہ اس کی خالی جگہ پر قبضہ کرنے کی جرات نہیں کرتا تھا ۔ اس طرح ان ہاکروں کی وجہ سے ان کی جگہ ٹھکانوں اوران کے سامان کی حفاظت بھی ہوتی تھی ۔ بوٹ پالش ، سبزی ، پھل ، کپڑے دیگر سامان والے ان کی جگہوں پر دن میں اپنی دوکان لگاتے ۔ جب وہ کام کے لیے کہیں دور گئے ہوتے اور شام ان کے آنے تک اپنا سامان سمیٹ کر ان کی جگہ خالی کر دیتے اور انھیں۵۰،۷۵یا۱۰۰؍ روپے کرائے کے طور پر بھی دیتے تھے ۔

    کو ئی کوئی ہاکر تو اپنا سارا سامان تھیلیوں میں بھر کر اسی جگہ پر چھوڑ جاتا تھا کیونکہ رات کو وہ لوگ تو وہاں پر سونے کے لیے آتے ہی تھے اور اس سامان کی حفاظت بھی کرتے تھے ۔ دوسرے دن وہ ہاکر ان کے کا م پر جانے سے پہلے وہاں آکر اپنا سامان اپنے قبضے میں لے کر دوکان لگا دیتا تھا اور اس طرح وہ ان کی جگہ ، سامان اور ٹھکانے کی حفاظت بھی کرتا تھا ۔
    اس نے اپنی جگہ کرائے پر بدلو حجام کو دی تھی ۔ بدلو اس کے سسرال کے گائوں کا تھا ۔اس طرح قریبی آدمی نکلا تھا ۔ وہ اسے کرائے کے طور پر۵۰؍ روپے دیتا تھا۔اگر سال میں اسے ایک آدھ کے لیے وطن جانا بھی ہوتا تھا تو فکر کی کوئی بات نہیں تھی کیونکہ ایسی صورت میں بدلو اس کے ٹھکانے پر رات میں سو کر اس کے ٹھکانے اور اپنے سامان کی حفاظت کرتا تھا ۔ بدلو کے آنے تک وہ اپنا ٹھکانہ چھوڑ ہی نہیں سکتا تھا ۔ اپنے اور بدلو کے سامان کی حفاظت کرنی ہوتی تھی اور اپنے ٹھکانے کی بھی ۔

    جگہ خالی دیکھ کر کسی غنڈے نے ڈیرہ جمع لیا تو برسوں کی محنت مٹی میں مل جائے گی ۔ اس لیے جب بدلو کسی وجہ سے نہیں آپاتا تھا تو اس کے سامنے سامان ور جگہ کی حفاظت کا ایک ہی راستہ ہوتا تھا ۔ وہ اپنے کام پر نہ جائے اور دن بھر وہاں رہ کر اپنی جگہ ،سامان ٹھکانے کی حفاظت کرے ۔ ایسا کرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ بھی نہیں تھا ۔ بھلے دن بھر کام کے ناغہ کی وجہ سے ایک دن کی مزدوری نہ ملے اور بدلو کا ایک دن کا کرایہ بھی نہ ملے لیکن لاکھوں کی جگہ کی حفاظت تو ضروری ہوتی تھی۔ گائوں سے وہ پیٹ بھرنے کے لیے ممبئی آیا تھا ۔ اسے کام بھی مل گیا تھا ۔ اس کا پیٹ بھی بھرتا تھا ۔ا س کے پاس کافی پیسے بھی جمع ہوتے تھے جو وہ اپنے گھر والوں کو بھیج دیتا تھا ۔

    اس کے روانہ کردہ پیسوں میں وہ آرام سے زندگی گذارتے تھے ۔ سال دو سال میں وہ اپنے بیوی بچوں سے ملنے کے لیے کچھ دنوں کے لیے اپنے گائوں ان کے پاس تو ضرور جاتا تھا ۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ ایک بار گائوں میں اس کا گھر بن جائے پھر وہ ممبئی کو خیر باد کہہ دے گا اور اپنے گائوں میں کوئی چھوٹا موٹا کام کر کے اپنا اور اپنے خاندان والوں کا گذر بسر کرے گا ۔

    وہ اپنا گھر بنانے کے لیے ایک ایک پیسہ جوڑ رہا تھا لیکن اسے ایسا محسوس ہوتا تھا جس رفتار سے اس کے پاس پیسے جمع ہو رہے ہیں اس حساب سے ابھی دو چار سال اور اسے ممبئی میں اپنے ٹھکانے پر گذارنے ہیں ۔ یا یہ بھی ممکن ہے کوئی ہاکر اس کے اس ٹھکانے کی اتنی قیمت دے دیں کہ ایک ساتھ اس کے پاس اتنی بڑی رقم آجائے کے وہ آسانی سے گائوں میں اپنا گھر بنا کر اس ٹھکانے اور ممبئی کو الوداع کہہ سکے ۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں