1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

وہ ایک رات

'میری تحریریں' میں موضوعات آغاز کردہ از عماد عاشق, ‏مارچ 28, 2017۔

  1. عماد عاشق

    عماد عاشق یونہی ہمسفر

    کل رات 11 بجکر 15 منٹ پر معمول کے مطابق برقی رو منقطع ہوئی۔ میں اپنے کمرے میں اپنے برادرِ اصغر کے ساتھ موجود تھا ۔ برقی رو نے 12۔15 پر بحال ہونا تھا۔ میرا انٹرنیٹ پیکج بھی ختم تھا، جو کہ 12 بجے بحال ہونا تھا۔ سو سوچا کہ وقت گزاری کے لیے لیپ ٹوپ پر کوئی اچھا ڈرامہ دیکھا جائے۔ میں کچھ اچھے پنجابی ڈراموں سے محظوظ ہو رہا تھا کہ گھڑیال نے 12 بجے کا وقت بتایا ۔ میں نے پیکج بحال کروایا اور برقی رو بحال ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ شاید12 بجکر 10 منٹ پر میرے کمرے کے در ودیوار لرز گئے اور یہ ارتعاش اس بات کی علامت تھا کہ گھر کے قریب سے گزرنے والی ریل کی پٹڑی پر سے بہت تیز رفتار ٹرین گزری ہے۔ شیخوپورہ جنکشن میرے گھر سے7 سے 8 منٹ کی پیدل مسافت پر ہے سو یہ ارتعاش میرے لیے ایک معمول کی بات تھی۔ ابھی 12 بجکر 14 منٹ ہوئے تھے کہ ایک خوفناک دھماکے نے در و دیوار کو ایک بار پھر ہلا دیا اور اس مرتبہ آنے والی آواز اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ارتعاش بلاشبہ غیر معمولی تھا۔

    میں نے اپنے کمر ے کی کھڑکی کے باہر دیکھا تو مغربی سمت پر آسمان آگ کے فلک شگاف شعلوں کے رنگ میں ڈھل گیا اور پھر آسمان پر دھویں کے بادل چھا گئے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیا ہوا۔ میں اپنے بھائی کے ساتھ کمرے سے باہر آیا تو دیکھا کہ آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کر رہے ہیں اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے ساتھ والی گلی میں ہی آگ لگی ہے۔ اسی اثناء میں باقی گھر والے بھی جاگ گئے اور پھر میں اور ابا جی گھر سے معاملے کا پتہ کرنے نکلے۔ ہم قریبی پھاٹک پر پہنچے اور مغربی سمت کی طرف دیکھا تو منظر نہایت دلدوز تھا۔ ریل کی پٹڑی پر ٹرین جل رہی تھی اور یہ وہی ٹرین (شالیمار ایکسپریس، لاہور تا کراچی براستہ فیصل آباد)تھی جس کے گزرنے نے میرے کمرے کے در و دیوار ہلا دیے تھے۔ دل میں گمان گزرا کہ ٹرین کا کسی تیل والے ٹینکر سے تصادم ہو گیا ہے ۔جائے حادثہ (جو کہ میرے گھر سے بمشکل 2 کلومیٹر دور ہے) پر پہنچا تو اندازہ درست ثابت ہوا۔ 8 میں سے 6 بوگیاں جل چکی تھیں۔ ٹرین کے ڈرائیور اور معاون ڈرائیور کی موت کی تصدیق ہوچکی تھی۔

    ٹینکر پٹڑی کے ساتھ والے میدان میں 2 حصوں میں بٹا جل رہا تھا۔ پٹڑی سے 100 فٹ سے کم فاصلہ پر میرے ابا جی کے بہت قریبی دوست کاگھر ہے، جس کے در و دیوار کو آگ نے متاثر کیا لیکن گھر ربِ کریم کے خاص الخاص کرم کی وجہ سے آگ کی لپیٹ سے محفوظ رہا۔ پٹڑی کے آس پاس کی تمام آبادی بھی اللہ کے کرم سے محفوظ رہی ۔ رات کے اس پہر یہ کہنا بہت مشکل تھا کہ کتنے مسافر ایسے ہیں جنہیں بحفاظت نکال لیا گیا ہے اور کتنے ابھی ٹرین کے اندر پھنسے ہیں۔ آگ کچھ کم ہوتی اور پھر زیادہ شدت سے بھڑک اٹھتی۔ امدادی ٹیمیں جاں فشانی سے اپنی ذمہ داریاں قلیل وسائل کےباوجود سر انجام دے رہی تھیں۔ تاہم انہیں سب سے بڑی مشکل ان غیر تربیت یافتہ، جاہل اور گنوار نوجوانانِ ملت کی وجہ سے پیش آرہی تھی جو جائے حادثہ کی ویڈیو بناکر اپلوڈ کرنے کے چکر میں آگ کے قریب پہنچے ہوئے تھے۔ آخرکار مقامی پولیس کی مدد سے ان منچلوں کو وہاں سے ہٹایا گیا۔

    جیسے جیسے آگ بھڑکتی، یہی خوف دل کو لپیٹ میں لیتا کہ نہ جانے کتنے لوگ لقمہِ اجل بن گئے ہوں گے۔ میں رات کو اپنے گھر واپس آ گیا اور پوری رات آنکھوں میں کٹ گئی۔ رات ساڑھے تین بجے کے قریب لاہور سے ایک ٹرین شیخوپورہ آئی جو مسافروں کو لاہور لے گئی اور انہیں پھر کراچی روانہ کیا گیا۔ صبح جب آگ بجھی توصورتحال واضح ہوئی۔ معلوم ہوا کہ یہ ٹینکر پھاٹک سے گزرتے ہوئے خراب ہو گیا اور اس کا اپنی جگہ سے ہلایا جانا نا ممکن ہوگیا۔ پھاٹک والے کے بیان کے مطابق اس نے اس بات کی اطلاع متعلقہ کیبن اور مذکورہ جنکشن کو دی لیکن اس کی بات پر کان نہ دھرا گیا۔ نتیجتاََ یہ اندوہناک حادثہ پیش آیا۔ سب سے پہلے آگ نے انجن کو لپیٹ میں لیا جس کی وجہ سے دونوں ڈرائیور شہید ہوئے۔ اس کے بعد آگ پہلی بوگی کو لگی جس میں کوئی مسافر موجود نہ تھا اور فقط ان کا سامان موجود تھا۔ جب تک آگ مسافر بوگیوں تک آئی، مقامی آبادی نے جرات، خلوص، ایثار و ہمدردی کی اعلی مثال قائم کرتے ہوئے تمام مسافروں کو ٹرین سے نکال کر قریبی میدان منتقل کیا۔ مسافروں کی آل اولاد اور مال کی حفاظت کی۔ پھر انتظامیہ نے ان کی مناسب طو رپر رکھوالی کی اور پھر انہیں بذریعہ ٹرین لاہور منتقل کیا گیا۔ یہ بات نہایت خوش کن ہے کہ تمام مسافروں کو بچا لیا گیا گو کہ ڈرائیورز کی موت پر دل بہت اداس ہے۔ مقامی آبادی اس سلسلہ میں ہر طرح کی تحسین کی مستحق ہے۔

    ابا کےدوست کے گھر کی چھت پر 100 کبوتر موجود تھے۔حادثے کے بعد اگلی صبح دیکھا تو قفس تو موجود تھا مگر کسی ایک پنچھی کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ میدان میں کچھ مور تھے، وہ بھی غائب پائے گئے۔ گھر کی بیرونی دیوار سیاہ ہوگئی۔ گھر کی کچھ چھتوں اور دیواروں کو نقصان پہنچا بجلی کے میٹر جل گئے۔ چھت پر لگا قومی پرچم نذرِ آتش ہوا، اور میلاد النبی ﷺ کے موقع پر لگائے گئے پرچم کو معمولی گزند پہنچا۔ تاہم گھرکے تمام افراد مکمل طور پر محفوظ رہے۔ابا کے دوست کہنے لگے کہ یہ چھت پر لگے میلاد النبی ﷺ کے پرچم کی ہی برکت ہوئی کہ ہم تمام اہلِ خانہ کی جان محفوظ رہی ورنہ آگ کے لیے 50 فٹ کا فاصلہ کوئی معنی نہیں رکھتا اور اس پر مستزاد یہ کہ گھر کی بیرونی دیوار کے ساتھ درختوں کی ایک پوری قطار موجود ہے۔اگر معمولی سی آگ بھی درختوں کو لگ جاتی تو نقصان کئی گنا ہوتا۔

    یہ رات پورے شہر پر ان گنت انمٹ نقوش چھوڑ گئی۔ تمام باسیوں کے دل و دماغ پر اس کے سائے بہت عرصہ تک رہیں گے۔ میں گھر آ کر یہ سوچتا رہا کہ نہ جانے ہم گنہگاروں کو اگر جہنم میں ڈال دیا گیا تو نہ جانے ہم بے بسوں کا کیا بنے۔ فائدہ تب ہی ہے جب ہم ان حادثات سے عبرت پکڑیں اور اجتماعی توبہ کا اہتمام کریں تاکہ ہماری دنیا وآخرت رب تعالیٰ کے فضل وکرم سے سنور سکے۔
     
    عمراعظم، بینا اور زبیر نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. زبیر

    زبیر منتظم Staff Member

    اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے اور لواحیقن کو صبر دے۔ حادثات واقعی انمٹ نشانات چھوڑ کر جاتے ہیں لیکن احساس انہی کر رہتا ہے جو کچھ کھو دیتے ہیں ، باقی ہماری قوم تو بہت ساری چیزوں کو بہت جلدی بھول جاتی ہے اور قوم کے طور پر ہم ان سے کچھ نہیں سیکھ پاتے اسی لئے با ر بار غفلت اور بار بار اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ، جو چیزیں انسانی غفلت کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتی ہیں ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ @عماد عاشق بھائی آپ کے رشتہ دار محفوظ رہے۔
     
    عمراعظم اور عماد عاشق .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. بینا

    بینا مدیر Staff Member

    اللہ اللہ۔۔۔۔
    یہ واقعات ہمارے لئے واقعی عبرت انگیز ہوتے ہیں ۔
    جو لوگ اس آگ سے دور تھے ان کا خوف اور دہشت سے اتنا برا حال تھا تو جو لوگ اس ٹرین میں سفر کررہے تھے، ان کے خوف اور دہشت کا کیا عالم ہوگا۔۔۔۔ بے شک جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ، والد صاحب کے دوست کا گھر اس آگ سے اللہ کی رحمت سے محفوظ رہا ، اور ان کا یہ کہنا بھی سو فیصد درست ہے کہ میلاد النبی ﷺ کے پرچم کی وجہ سے حفاظت ہوئی سبحان اللہ۔
    ڈرائیورز کی شہادت پر دل رنجیدہ ہے، اللہ کریم ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے آمین۔
     
    زبیر اور عمراعظم .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. عمراعظم

    عمراعظم یونہی ایڈیٹر Staff Member

    اس طرح کے انتہائی افسوس ناک واقعات جہاں مضطرب و غمگین کر دیتے ہیں وہیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کر رہے ہیں کہ ہم اسے اپنی ترقی کہیں یا تنزلی۔۔۔۔ بظاہر حالات بہتری کی جانب رواں ہیں لیکن ہماری حسی اور غفلت ہمیں بار بار ایسے حادثات سے دوچار کر دیتی ہے ۔
    میں محسوس کر رہا ہوں کہ ہم دن بہ دن غیر سنجیدہ اور خود پسند ہوتے جا رہے ہیں۔لا علمی، غیر سنجیدگی، بے حسی اور اپنے فرائض سے چشم پوشی(کام چوری) ہمارےمستقبل میں بہتری کے لئے بہت زیادہ خوش کُن نہیں ہے۔ اللہ ہمیں نیک ہدایت عطا فرمائے۔آمین
     
    عماد عاشق اور زبیر .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں