1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

ناآگاہی یا تعویذ پلیتے؟ (عبدالباسط ذوالفقار)

'گوشہ ءِ ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالباسطذوالفقار, ‏اکتوبر 3, 2017۔

  1. عبدالباسطذوالفقار

    عبدالباسطذوالفقار یونہی ہمسفر

    *ناآگاہی یا تعویذ پلیتے؟*
    (عبدالباسط ذوالفقار)
    میں لٹ گئی میں برباد ہو گئی۔ مجھے امام صاحب سے ملنا ہے۔ میں ابھی ہی ملوں گی۔ وہ یہیں ہوتے ہیں۔ وہ نماز پڑھا کے مسجد میں ہی بیٹھتے ہیں۔ وہ گھر پر نہیں ہیں۔ ایک ضعیف خاتون جامع مسجد کے دروازے پر کھڑی پشتو زبان میں امام صاحب سے ملنے پر اصرار کر رہی تھیں۔ اور مُصر تھیں کہ انہیں اندر جانے دیا جائے۔

    جب کہ مسجد کے خادم روکنے کی کوشش کر رہے تھے کہ امام صاحب باہر ہی آئیں گے۔ مگر وہ نہ مانیں اور اپنے ضعف کا فائدہ اٹھا کر گیٹ سے اندر چلی گئیں اور راستے میں چوکڑی مار کر بیٹھ گئیں۔
    امام صاحب کو اطلاع کی گئی تو فرمایا کہ اس خاتون سے آنے کی وجہ دریافت کی جائے۔ اماں! آپ کیوں آئی ہیں؟ کیا کام ہے؟ خادم نے پوچھا۔ تو اماں نے روتی صورت بنائی اور دکھڑے شروع کر دیے۔ ساتھ ہی ماتھے پر ہاتھ مار مار کر اپنے مقدر اور نصیب کو رونے لگیں۔

    مجھ پر جادو ہوا ہے، مجھ پر اثرات ہیں۔ میری بہو جادوگرنی ہے، مجھ پر میرے بیٹے پر اس نے جادو کروایا ہے۔ اتنے سال ہو گئے وہ بنگالی بابا سے تعویذ لائی تھی۔ میرا بیٹا مجھ سے چھین لیا۔ خطیب صاحب مجھے تعویذ لکھ کر دیں۔ مجھے پانی دم کر کے دیں۔

    نام نہاد پیر بابوں کے تعویذات پر ہمارا اعتقاد حد درجہ ہے کہ فلاں بابا جی ایسا تعویذ دیتے ہیں کہ بہو ساس کی وفادار بن جاتی ہے۔ بیٹابیوی کا غلام بن جاتا ہے۔ ان کا بتایا ہوا وظیفہ بہت باکمال ہوتا ہے۔ اور ہم پریشانی میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے جاہل عاملوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جن کا کہنا ہوتا ہے کہ بھوت پریت، چڑیل، چھلاوہ، چھلیڈا، وڈاوا اتارنا، جن بوتل بند کرنا، ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ حب اور بغض کے فیتے جلانا، آٹے کی پتلیوں میں سوئیاں گاڑ کر دشمنوں کو ایذا پہنچانا، چور پکڑنے کے لیے لوٹا گھمانا، اولاد کا نہ ہونا، دست غیب سے یہ سارے اعمال فی سبیل اللہ کیے جاتے ہیں۔ اور لوگ بھی سہانے خواب دیکھے ان کی طرف کھچے چلے جاتے ہیں۔
    اماں تو پھر بھی عالم دین کی خدمت میں حاضر ہوئی تھیں۔

    یہ ایک عام سی بات ہے اور معاشرے میں ہر دوسرا فرد اس قسم کی پریشانی میں مبتلا ہے۔ ساس بہو سے نالاں ہے تو بہو ساس سے، شوہر بیوی میں اتفاق نہیں۔ ناچاقی و بے سکونی عروج پر ہے۔ اتنے شوق سے آنکھوں میں ہزاروں خواہشیں سجائے دھوم دھام سے بیٹے کی شادی جاتی ہے۔ ڈھول کی تھاپ پر بنت ہوا کو نچا کر نشے سے جھوم جھوم کر موج و مستی میں مست اللہ تعالیٰ کے حکموں کو روند کر خوشی مناتے ہیں۔ رقص و سرور کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں۔ اور پھر کہتے ہیں کہ: وہ آخری بچے کی شادی تھی سوچا خوب انجوائے کر لیں۔

    لاکھ خوشیاں منا کے شیطان کی رضامندی پا کے بہو گھر لاتے ہیں مگر چند ہی دن بعد وہ بری ہو جاتی ہے۔ وہ جادوگرنی بن جاتی ہے۔ لاکھ امنگوں سے، بہت چاہ سے داماد بنایا جاتا ہے مگر وہ تمام خواہشوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔ اور آخری جو نقطہ ہماری پکڑ میں آتا ہے تو وہ ہوتا ہے تعویذ گنڈے، کہ بہو نے تعویذ کروا لیے، بیٹے کو پلاتی ہے اور بیٹا ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ ساس تعویذ کرواتی ہے اور میری خوشیوں میں بھنگ ڈالتی ہے ۔ بیٹے کے کان بھرتی ہے اور وہ مجھے پھر انسان ہی نہیں سمجھتا۔ ساس کے شکوے بھی بعض اوقات بجا ہوتے ہیں کہ بیٹا انہیں بالکل کچھ سمجھتا ہی نہیں۔ بیوی کے آتے ہی جنت ماں کے قدموں سے سرک کر بیوی کے قدموں میں آجاتی ہے۔ پھر ماں بیٹے کا اسی طرف کھچاؤ دیکھ کر سمجھتی ہیں کہ بہو نے تعویذ پلیتے کروا لیے۔

    دراصل ہوتا یہ ہے کہ ہم معاشرے میں دین کے معیار کو پس پشت ڈال کر رسم و رواج کے معیار کو ترجیح دیتے ہیں۔ کیوں کہ رسم و رواج الگ معیار رکھتا ہے دین الگ معیار رکھتا ہے۔ رسم و رواج آکر یہ معیار رکھتا ہے کہ لڑکے لڑکی کو بیاہنا چاہتے ہو تو دیکھو بینک بیلنس کتنا ہے؟ بنگلے گاڑیاں کتنی ہیں؟ کتنی بڑی اسامی ہے؟ کتنی بڑی سوسائٹی میں رہتے ہیں؟ دولت کی ریل پیل ہے؟ وہ خوبصورت کتنا ہے؟ کتنی آباہی دولت ہے؟

    جبکہ دین یہ معیار رکھتا ہے کہ دیکھو اس میں شعور کتنا ہے؟ کتنا دین دار ہے؟ کس اخلاقی سطح پر ہے؟ لیکن جب ہم دین کے معیار کو ہٹا کر کلچر کے معیار پر اپنی اولاد کو بیاہتے ہیں پھر پچھتاتے ہیں۔ کیا ہوا قسمت پھوٹ گئی۔ کیا ہوا؟ جادو ٹونا ہو گیا۔ کیا ہوا؟ تعویذ پلیتے ہوگئے۔ تعویذ پلیتے نہیں ہوئے ناآگاہی ہو گئی تھی، لاشعوری ہو گئی تھی جو خود اپنے ہاتھوں بچوں کی زندگیوں کو برباد کیا۔

    جب ہماری ترجیح رسم و رواج و دنیاداری ہو گی تو مصائب ٹوٹ پڑیں گے۔ اور اگر ہماری ترجیح دین داری ہو گی تو اللہ کا خوف بھی ہوگا۔ پھر بیاہا ہوا لڑکا ہر موڑ پر خیال رکھے گا کہ یہ میرے والدین ہیں ان کے حقوق سب سے زیادہ ہیں۔ پوری دنیا کی آسائشیں و آرائشیں گھول کر ماں کو پلا دی جائیں تو بھی ایک قطرہ پلائے ہوئے دودھ کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ انہیں آف تک نہ کہنا چہ جائیکہ ان کی بے ادبی و گستاخی۔

    ساتھ یہ بھی خیال رکھے گا کہ یہ میری بیوی بھی اللہ کی بندی ہے۔ مولا نے خود سفارش کی ہے "وَعَاشِرُوھُنّ بِالْمَعرُوف" اچھے طریقے سے رکھنا اور لڑکی بھی اللہ سے ڈرنے والی ہو گی اور مستحضر رکھے گی کہ میرا مجازی خدا میرا شوہر ہے۔ کہ اگر اللہ کے علاؤہ کسی کو سجدے کا حکم ہوتا تو بیوی کو ہوتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ وہ پھر خیال رکھے گی کہ یہ میرے ماں باپ ہیں ضعیف ہیں ان کا ادب احترام، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اپنا فرض سمجھے گی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اسی سے اجر طلب کرتے ہوئے ساس سسر کو بھی اپنے حقیقی ماں باپ کا درجہ دے گی۔ ساتھ شوہر کے حکموں کی بجا آوری بھی یقینی بنائے گی تو قرینہ قیاس ہے کہ گھر پرسکون رہیں گے۔ ساس کو کہیں تعویذ اتروانے نہیں جانا پڑے گا ۔ بہو کو ساس کے لیے چینی دم نہیں کروانے پڑے گی۔
     
    زبیر نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. علی مجتبیٰ

    علی مجتبیٰ مدیر Staff Member

    زبردست تحریر ہے
     
    زبیر اور عبدالباسطذوالفقار .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. علی مجتبیٰ

    علی مجتبیٰ مدیر Staff Member

    اس تحریر کو گوشہ ادب میں منتقل کردیا گیا ہے
     
    زبیر اور عبدالباسطذوالفقار .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. Pakistani

    Pakistani یونہی ہمسفر

    زبردست تحریر ہے
     
    زبیر اور عبدالباسطذوالفقار .نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. عبدالباسطذوالفقار

    عبدالباسطذوالفقار یونہی ہمسفر

    شکریہ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں