1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

عزیز جاں رہے لیکن جدا رہا ہم سے

'میری شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از سیدعلی رضوی, ‏جنوری 29, 2018۔

  1. سیدعلی رضوی

    سیدعلی رضوی یونہی ہمسفر

    عزیز جاں رہے لیکن جدا رہا ہم سے
    وہ جھوٹ موٹ ہی لیکن خفا رہا ہم سے

    فراق میں بھی ہمیں وصل کی سہولت تھی
    وہ بن کے دھڑکا ہی دل کا لگا رہا ہم سے

    کبھی امید کی لو گاہے ہجر کا دیپک
    چراغ دل میں تو ہردم جلا رہا ہم سے

    شکستہ حال چڑے کی مثال اک جذبہ
    اڑان بھر نہ سکا تو مرا رہا ہم سے

    خزاں کی دھوپ سے زخموں کی آبیاری کی
    تناۓ جاں تو یہ ہر پل ہرا رہا ہم سے

    لگی جو چوٹ کسی کو تو دل یہ بھر آیا
    یہ آبگینہ تو ہر دم بھرا رہا ہم سے

    الکیف
    س ع ر
    ابولویزا علی
     
    محمد یاسرکمال نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں