1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

جہیمان عتیبی ۔ موجودہ دہشت گرد تنظیموں کی ذہنیت

'حالات حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرزاق قادری, ‏جنوری 3, 2015۔

  1. عبدالرزاق قادری

    عبدالرزاق قادری یونہی ایڈیٹر

    جہیمان عتیبی (عربی زبان: جهيمان بن محمد بن سيف العتيبي) (16 ستمبر 1936ء تا 9 جنوری 1980ء) ایک مذہبی کارکن اور عسکریت پسند تھا اس کی قیادت میں 400 سے 500 مردوں کے ایک منظم گروپ نے خانہ کعبہ پر قبضہ کر لیا تھا ۔اس نے یکم محرم 1400 ہجری بمطابق 20 نومبر 1979ء کی صبح نماز فجر کی جماعت کے اختتام کے وقت اپنے مسلح ساتھیوںسمیت مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام (بیت اللہ) پر حملہ کیا اور کئی لوگوں کو یر غمال بنا لیا ۔ مسجد الحرام (خانہ کعبہ) دو سے زائد ہفتے ان کے قبضے میں رہی اور کئی بے گناہ لوگوں کو بچوں اور عورتوںسمیت شہید کردیا گیا ۔ شہداء کی تعداد کا اندازہ ایک سو سے لے کر چھ سو افراد تک لگایا جاتا ہے۔ پھر سعودی حکومت نے سپیشل فورسز کو خانہ کعبہ میں داخل کر دیا۔ فورسز نے ایک آنسو گیس (سی بی) کا استعمال کیا جو عمل تنفس کو سست کرتی اور جارحانہ جذبات کو روکتی ہے ۔ ٹینکوں کے ذریعے طاقت کا استعمال کرکے خانہ کعبہ (مسجد الحرام) کے گیٹ توڑے گئے اور جہیمان عتیبی کو پھانسی دی گئی۔ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری جیسے شدت پسند عناصر کے علاوہ کئی دیگر دہشتگرد تنظیموں کے لوگ جہیمان عتیبی کے طریقہ واردات سے متاثر ہوئے۔ اور آج تک دنیا میں آگ لگائے ہوئے ہیں۔ یہ اسلام کے نام پر ظلم کا بازار گرم کرنے والے جہیمان عتیبی کے نظریاتی پیروکار ہیں۔ اسے اور اس کے ساتھیوں کو اس کی زندگی میں خوارج کہا جاتا تھا۔ آج کے دہشت گردوں کو بھی ان کے اعمال و علامات کی وجہ سے خوارج کہا جاتا ہے

    نوٹ: اردو وکیپیڈیا پر یہ مضمون میرا لکھا ہوا ہے۔​
     
    زبیر اور محمود احمد غزنوی .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں