1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

جو زیرِ غور ہوتے ہیں وہ چہرے اور ہوتے ہیں

'میری شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از سیدعلی رضوی, ‏جولائی 20, 2018۔

  1. سیدعلی رضوی

    سیدعلی رضوی یونہی ہمسفر

    جو زیرِ غور ہوتے ہیں وہ چہرے اور ہوتے ہیں
    وہ باتیں اور ہوتی ہیں وہ لہجے اور ہوتے ہیں

    ہمیشہ خواب اور تعبیر میں آنات فاصل تھے
    جو دیکھیں جاگتی آنکھیں وہ سپنے اور ہوتے ہیں

    ہیں" بھولے "صبح کے ہم بھی کہاں جائیں کدھرجائیں
    جو سرِ شام لوٹیں گے وہ" بھولے" اور ہوتے ہیں

    جسے کچھ بھی نہیں ملتا اسے دھوکہ تو ملتا ہے
    وہ جو ہوتے ہیں ہرجائی وہ لڑکے اور ہوتے ہیں

    ہمارا دل کسی بھی کام میں مشکل سے لگتا ہے
    جو ہرجا لگ رہے ہیں ناں وہ پرزے اور ہوتے ہیں

    کہو کیا یہ ضروری ہے رواں ہر غم پہ آنسو ہو
    جنہیں آنکھیں نہ رو پائیں وہ دکھڑے اور ہوتے ہیں

    وہ جو کالج میں پڑھتا ہے ابھی تک ہے وہ بچہ ہی
    بڑے ہوتے ہیں جو گھر کےوہ " چھوٹے "اور ہوتے ہیں

    حسیں آنکھوں کی جنبش پر کئی سو دل دھڑکتے ہیں
    کئی سو دل اٹھائیں جو وہ نخرے اور ہوتے ہیں

    ابو لویزا علی
     
    تجمل حسین نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. بہت خوب جناب رضوی صاحب :)
     
    زبیر نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. کیا کیا یاد کروادیا آپ نے :) ، وہ گزرے دن، وہ کالج کا سنہرا دور :rolleyes:
     
    سیدعلی رضوی اور زبیر .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں