1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

عماد عاشق بہترین لمحہ

'میری تحریریں' میں موضوعات آغاز کردہ از عماد عاشق, ‏مارچ 29, 2017۔

  1. عماد عاشق

    عماد عاشق یونہی ہمسفر

    بہت سے پاکستانی بچوں کی طرح مجھے بھی جس کھیل نے بچپن میں ہی متاثر کیا وہ کرکٹ ہے۔3 یا 4 سال کا تھا جب سے کرکٹ کے میچز دیکھ رہا ہوں۔ 1996 کے عالمی کپ کی کچھ دھندلی یادیں ذہن میں تازہ ہیں۔ 1999 والے کپ کی یادیں کچھ کم دھندلی ہیں۔ 2003 کے معاملے میں آئینہ کافی شفاف ہے ۔ اور پھر 2007، 2011 اور 2015 کے کپ تو ابھی کل کی بات ہے۔ یہی معاملہ دیگر کرکٹ مقابلوں جیسے چیمپیئنز ٹرافی، ورلڈ ٹی 20 اور ایشیا کپ وغیرہ کا ہے۔

    جب دیکھ کر لطف آیا تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ کرکٹ کھیلی نہ جاتی۔ سو یہ شغل بھی بچپن سے جاری رہا گو کہ تعلیمی و دیگر مصروفیات کی وجہ سے اس پر زیادہ توجہ نہ دے سکا۔ دیکھنے اور تبصرہ کرنے کا عمل البتہ جاری رہا۔ دو ایک مرتبہ مقامی کرکٹ مقابلوں میں میچ کے دوران تبصرہ کاری یعنی کمنٹری کرنےکااتفاق بھی ہوا۔ بہت سے کھلاڑیوں کے متعدد کارنامے بھی از بر ہیں۔ اسی وجہ سے میرے بار ے میں رانا احسان صاحب فرماتے ہیں کہ عماد آپ کی نگاہ بہت" کرکٹیاتی" ہے۔خیر یہ تو رانا صاحب کی محبت ہےکہ وہ اس چھوٹے موٹے ڈاکٹر نعمان نیاز کو اہمیت سے نوازتے ہیں۔

    کچھ عرصہ قبل کچھ فراغت نصیب ہوئی تو طے ہوا کہ اتوار کو صبح کرکٹ کھیلنے جایا جائے۔ ایک ماہ قبل یہ سلسلہ شروع ہوا۔ ہر اتوار کو 2 سے 3 گھنٹے کرکٹ کھیلنے جاتا جس سے وقت کافی اچھا گزر جاتا۔ شروع شروع میں تو بلے بازی ٹھیک سے نہ ہو سکی لیکن جلد ہی نمایاں بہتری آئی۔ بہتری کی وجہ یہ ہے کہ میں نے باقاعدہ کسرت اور دوڑ لگانے کا عمل شروع کیا۔ اب پیر سے جمعرات کسرت کرتا، جمعہ کو بوجہِ بندش ورزش خانہ چھٹی ، بروز ہفتہ ورزش اور اتوار کی صبح کرکٹ۔ اس سے نمایاں فرق پڑا۔ گیند ٹھیک سے نظر آنے لگی اور بلے پر بھی آئی۔بلے بازی کرنا نہایت آسان ہوگیا اور بلا رنز اگلنے لگا۔

    دلچسپ بات یہ کہ میرے ساتھ کھیلنے والوںمیں میرے محترم استاد جی جناب سید شرجیل کامران صاحب بھی ہوتے ہیں جو کہ نہ صرف نہایت اعلی بلے باز ہیں بلکہ بلے بازی بھی خوب کرتے ہیں۔ محترم مجھے تب بھی پڑھاتے تھے جب بندہ بیکن ہاؤس اسکول میں چھٹی جماعت کا طالبعلم تھا اور آج بھی یہ تعلق بہت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ وہ میرے دوست بھی ہیں، رہبر بھی۔ بھائی بھی اور راہنما بھی ۔ استاد بھی اور ہمراز بھی۔ ہم اکثر معاملات پر ایک دوسرے سے شدید اختلافات رکھتے ہیں لیکن بندے کی طرف سے احترام میں کمی نہ آئی اور ان کی جانب سے محبت میں۔

    ایک روز میں بلے بازی کر رہا تو استاد جی گیند بازی۔ میں نے بلا ہوا میں گھمایا تو دو لمحے بعد احساس ہوا کہ گیند ہوا میں اڑ کے چھ رنز کے لیے باؤنڈری لائن سے باہر چلی گئی۔ میں دم بخود تھا اور خوش بھی۔ اس روز دوبارہ ہمارا ٹاکرا نہ ہوا۔ اگلے ہفتے میرا بلا رنزاگل رہاتھا۔ میں 3 چوکے اور 2 چھکے لگا چکا تھا کہ استاد جی نے گیند تھاما۔ پہلا گیند میں ٹھیک سے کھیل گیا اور دوسرا گیند میری ٹانگوں اور بلے کے درمیان سے گزر گیا اور ہوش تب آئی جب وکٹس زمیں بوس ہوئیں۔ اب مقابلہ 1 ،1 سے برابر ہو گیا۔ اس کے بعد اب تک دوبارہ ٹاکرا نہیں ہوا۔

    اس اتوار (26 مارچ ) کو ایک نہایت دلفریب قصہ ہوا۔استاد جی تھکے ہوئے تھے اس لیے دیر سے میدان میں آئے۔ تب تک ہم نے کھیل شروع کر لیا تھا۔ وہ شاید کچھ تھکے ہوئے تھے،اس لیے دو ہم جولیوں کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گئے اور گپ شپ اور میچ سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ ان کے وہاں بیٹھے بیٹھے میں نے 4 میچ کھیلے ۔ اتفاق یہ کہ چارو ں مقابلہ جات میں میری ٹیم نے ہدف کا تعاقب کیا۔ ہر مقابلے میں قریب قریب 50 رن جیت کے لیے درکار تھے، جو 6 اوورز میں بنانا تھے۔ اللہ کے فضل سے میں نے تمام مقابلے اپنی ٹیم کو جتوائے اور 4 میں سے 3 مقابلہ جات میں ناقابلِ شکست رہا۔ دوسرے مقابلے میں ایک وقت وہ آیا جب میں کریز پر آیا تو 18 گیندوں پر 33 رن درکار تھے جو کہ بالآخر مکمل کر لیے گئے۔

    یہ ساری فقط تمہید ہے۔ یادگار لمحے کا ذکر اب آیا۔ 4 میچ کھیل کر میں کچھ تھک گیا تھا، لیکن پانچواں مقابلہ کسی اور ٹیم کے ساتھ کرنا پڑا، سو مجھے یہ میچ بھی کھیلنا پڑا۔ خوبصورت اضافہ یہ ہواکہ اس مرتبہ استاد جی نے بھی کھیلنے پر رضا مندی ظاہر کی، ظاہر ہے کہ ہماری ٹیم کی طرف سے۔ کھیل شروع کیا۔ پہلی وکٹ گری تومیں بلے بازی کو گیا، لیکن شاید ذہنی تھکاوٹ کی وجہ سے فقط2 گیندوں پر 2 رن ہی بنا سکا اور واپس لوٹا۔

    ہماری ٹیم نے مخالف ٹیم کو جیت کے لیے 6 اوورز میں 61 رن کا ہدف دیا۔ پہلا اوور استاد جی نے کرنا تھا۔ انہوں نے تیسری گیند پر پہلی وکٹ گرا دی۔ چوتھی گیند پر شاید ایک رن بنا۔ پانچویں گیند پر بلے باز نے اٹھتا ہوا سٹروک کھیلا۔ میں باؤنڈری پر کھڑا تھا۔ گیند میری طرف تیزی سے بڑھا۔ میں نے گیند پر نظر جمائی اور بالآخر کیچ تھام لیا۔ سب نے خوشی منائی۔ استاد جی نے چھٹی گیند کروا کر گیند اگلے گیند باز کی طرف اچھالی۔ اپنی فیلڈنگ پوزیشن پر جاتے ہوئے انہوں نے میری طرف دیکھا اور کیچ کی داد دیتے ہوئے تالی بجائی۔

    اس وقت تو یہ لمحہ شاید عام سا محسوس ہوا۔لیکن ایک رات جب یہ منظر دوبارہ ذہن میں تازہ ہوا تو ذہن میں ساون کی بارش کی سی رومانویت آ گئی۔ مجھے یہ لمحہ اپنی زندگی کا بہترین لمحہ محسوس ہوا۔ اس قدر لازوال و انمول لمحہ دینے کے لیے میں استاد جی کا حد درجہ ممنون ہوں۔ بسترِمرگ پر اگر کبھی دوبارہ زندگی جینے کی خواہش ہوئی تو اس ایک لمحے کو یاد کرکے زندگی ایک بار پھر جی لوں گا۔ اللہ میرے استاد جی کا سایہ مجھ اور دیگر تمام شاگردان پرتا دیر سلامت رکھے۔ آمین۔
     
    رانا احسان نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں