1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. آپس میں قطع رحمی نہ کرو، یقینا" اللہ تمہارا نگہبان ہے۔یتیموں کا مال لوٹاؤ، اُن کے اچھے مال کو بُرے مال سے تبدیل نہ کرو ۔( القرآن)

  3. شرک کے بعد سب سے بڑا جرم والدین سے سرکشی ہے۔( رسول اللہ ﷺ)

  4. اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو یقین کرو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے۔(خلیل جبران)

بلا عنوان ۔ افتخار افی

'اردو کالم' میں موضوعات آغاز کردہ از جوگی, ‏مئی 18, 2015۔

  1. جوگی

    جوگی منتظم Staff Member

    واک کرتے دس منٹ سے زیادہ وقت گُزر گیا بابا دین مُحمد خاموش تھا ،
    مُجھے بقین تھا بابا آج دور کی کوڑی لایا ھے میں نے کلام کی ابتدا کی ،
    پوچھا بابا خیر ھے آج چُپ ھو ؟
    بابا دین مُحمد تو جیسے سوال کا مُنتظر تھا آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا ،
    بولا ان کمرشل والوں نے اس مُلک کی اقدار رسم ورواج اور ھمارے رشتوں کی بربادی کا بیڑا اٹھا رکھا ھے ،،
    یہ ھمیں مادہ پرستی کی جانب دھکیل رھے ھیں ،
    میں کُچھ سمجھا نہیں ، میں نے حیرت سے کہا ،
    بابا نے سوال کیا جانتے ھو یو ایس پی [USP] کیا بلا ھے ؟
    میں نے نفی میں سر کو جُنبش دی ،
    بابا نے جواب دیا ،، یونیک سیلنگ پوائینٹ ،، ،
    پرودکٹ کو بیچنے کا انوکھا طریقہ ،ھر کمپنی اپنی پروڈکٹ کو اتنا ضروری قرار دے رھی ھے کہ اگر یہ پروڈکٹ استعمال نہ کی تو جیسے گھر ٹوٹ جائے گا ،،
    بار بار کمرشل چلا چلا کر ھر انسان کو ھپناٹائیز کر دیا گیا ھے ،،
    چھوٹے میاں کے بڑھنے کے لیئے ،، مکھن ،، ضروری ھے ورنہ بچہے کا قد چھوٹا رھ جائے گا ،، رانی کی راجہ سے ساری رات بات ، فری منٹ آفر ،، یہ سب کیا ھے ؟ ، بابا غُصے میں تھا ،
    بابا تلملا کر بولا بھائی ،
    ان ملٹی نشنل نے طرح طرح کے سلوگن بنا کر اخلاقیات اور رشتوں کے تقدُس کا پامال کر دیا ھے ،،
    میں نے پوچھا مثال دے سکتے ھیں آپ ؟
    بابا بولا ھاں ،، جہاں گھی وھاں مامتا ، شربت جیسے ماں کا پیار ، بنک رشتہ اعتماد کا ، شمپو بنا نے والے کہتے ھیں حجاب سے سر میں خُشکی ھو جاتی ھے ،موبائل کے کمرشل میں دُلہن اور اُس کا اماں ابّا اور سارا خاندان ناچ رھا ھے ، موبائیل سم والے کہتے ھیں سچی یاری سب پے بھاری ،، چائے والے کہتے ھیں یہی تو ھے وہ اپنا پن ،، اور تو ایک کمرشل میں موت کا فرشتہ آتا ھے اور کہتا ھے میں تمھیں لینے آیا ھوں تمھاری آخری خواھش ؟ لڑکا کہتا ھے کہ میریے موبائیل کی بیٹری ختم ھو جائے پھر میری روح قبض کر لینا ،، اور پھر ملک الموت کو انتظار میں نیند آجاتی ھے پر موبائیل کی بیٹری ختم نہیں ھوتی ،،
    کیا یہ مذھب رشتوں اور اقدار کا مزاق نہیں اُڑایا جا رھا ؟؟
    میں نے کہا بابا جی کُشادہ دلی کا مُظاھرہ کریں میری نظر میں یہ کوئی اتنی بُری بات نہیں جتنا آپ برھم ھو رھے ھیں ،،
    بابا جی کا پارہ چڑہ گیا ، طیش میں آکر بولے تم جیسے انلائٹنٹ موڈریٹ لوگوں کی وجہ سے اس مُلک کا ستیاناس ھو رھا ھے ،
    بابا بولا غضب خدا کا بچے کی کھلو نا گاڑی فلش میں گر گئی تو ایک عورت بولی فکر نہ کریں فلش صاف کرنے والا لیکوڈ ھے ، اور پھر فلش کو صاف کر کے فلش میں ھاتھ پھیرتی ھے ، کیا تم فلش میں ھاتھ پھیر سکتے ھو ؟؟
    میں نے بابا کو سمجھانا چاھا مگر بابا نے ٹاپ گیئر لگا رکھا تھا ،،
    بولے میاں ھر شے ناچ ناچ کے گا گا کے بیچی جارھی ھے ،
    ھماری آنے والی نسلوں کو اخلاقیات اور رشتوں سے بے گانہ کیا جارھا ھے ،،
    ماں کے ھاتوں کا پیار شربت کیسے ھو سکتا ھے ؟
    مامتا کا نعم البدل گھی کیسے ھو سکتا ھے ؟
    سچی یاری موبائیل سم سے کیسے مل سکتی ھے ؟؟
    میرے پاس بابا دین مُحمد کی کسی بات کا کوئی جواب نہ تھا ،،
    چند ثانئیے خاموش رھا پھر شدید تکلیف سے بولا
    میاں اس خطے کے لوگو کو خُدا پوچھے قُدرت سے بیر لینے چلے ھیں ،میں نے پوچھا وہ کیسے ؟ بابا بولا وہ ایسے کہ اس خطے کے موسم کی وجہ سے ھماری رنگت سانولی اور کالی ھے ،
    یہ سب کے سب رنگ گورا کرنے والی کریمیں استعمال کر رھے ھیں ،
    میں چیلنج کرتا ھوں کیسی رنگ گورا کرنے والی کریم سے اگر کسی ایک کا رنگ عمر بھر کے لیئے گورا ھو جائے تو جو چور کی سزا وہ میری ،،
    بابا کی باتیں دل پر اثر کرنے لگیں ،
    میری دلچسپی بڑھ گیئی ،، میں نے پوچھا بابا آج کا لیکچر ختم ھوگیا ؟
    بابا بولا نہیں ، دیکھو میاں ٹی وی چینل والے ریٹنگ کے چکر میں کُچھ بھی کرنے کو تیار ھیں ، میں نے کہا اب ٹی وی چینل نے کیا کر دیا ،،
    بولا بھٹا بٹھا دیا ھے اس مُلک کا ، میں نے اختلاف کیا ،
    بابا بولا دیکھتے نہیں ھو ھر چینل پر کرائم سٹوریز سینسر کی زد سے آزاد بے راہ روی کا پرچار کر رھی ھیں ،،
    اخلاق باختہ کرائم سٹوریز دیکھ کر لگتا ھے جیسے اس مُلک میں صرف مُجرم رھتے ھیں اور یہاں صرف ایک عمل ھوتا ھے اور وہ ھے جُرم ؟؟ گھروں میں بیٹھے ھوئے قوم کے بچے جُرم کے نئے نئے طریقوں سے آشنا ھو رھے ھیں ،،
    میرے پاس اس بار بھی کوئی عُذر نہ تھا ، واک ختم ھوئی تو بابا میرا ھاتھ تھام کر ایک بینچ پر بیٹھ گیا ،
    بابا کی آنکھیں نم تھیں ، چہرے سے اندر کا کرب عیاں تھا ،،
    بولا بیٹا ھم نے پوری قوم کو منگتا بنا دیا ھے ، ھر دل میں لالچ اور حرص پیدا کردی ھے ،، میں نے پوچھا وہ کیسے ؟
    بابا نے جواب دیا یہ آجکل تم دیکھتے ھو انعام دینے والے شو ؟
    جی میں دیکھتا ھوں میں دیکھتا ھوں ،، بو لا کیا تم نے دیکھا نہیں کے بچے بوڑھے جوان ھر عمر کے مرد عورتیں کیسے میزبان کی مننت سماجت کرتے ھیں ،، ؟
    بھائی مُجھے بائیک چاھیے بھائی مُجھے موبائیل چاھیئے ، بھائی مُجھے یہ دیدو بھائی مُجھے وہ دے دو ،، ؟
    میں نے کہا ھاں یہ مُجھے بھی بُرا لگتا ھے ،، بُہت سے فیس بُک فرینڈز مُجھ سے بھی اُن شوز کے پاس مانگتے ھیں
    بابا کی جیسے تسکین ھو گئی بولا تم نے میری بات کی تسدیق کر دی ،، بھائی پوری قوم اُن شوز میں شرکت کی خواھش مند ھے ،،
    لالچ نے ھر دل میں گھر کر لیا ھے ،، سب منگتے ھو گئے ھیں ،
    اور چینل کی ریٹنگ آسمان کو چھو رھی ھے ، کیا اخلاقی طور پر یہ دُرست ھے ؟
    میں چُپ ھو گیا ،
    بابا نے اپنے آنسو صاف کیئے اور گویا ھوا ،
    بیٹا تم نے غور نہیں کیا ھر چینل پر ٹاک شوز ھورھے ھیں ھر اینکر سماج سُدھار کی باتیں کر رھا ھے ،
    میں نے کہا ھاں میں بڑے شوق سے دیکھتا ھوں سارے ٹاک شوز ،،
    بابا نے سوال کیا ، درجنوں ٹاک شوز ھونے کے باوجود مُعاشرے میں کوئی تبدیلی دیکھی تم نے ؟ میں نے نفی میں سر ھلایا ،،
    بابا بولا کریکٹر بیٹا کریکٹر نہیں ھے اینکر کا ،
    ھر اینکر کے سکینڈل فیس بُک پر دیکھ سکتے ھو ،،
    باکردار کی بات میں وزن ھوتا ھے الله کی برکت ھوتی ھے ،
    بابا کھڑا ھوا چند قدم گیٹ کی جانب بڑھا پھر یک دم مُڑ ا بابا کے چہرے پر ایک متانت تھی ، بولا میاں سرکار دوعالم میرے پاک آقا نے جب پہاڑی پر کھڑے ھو کر مکّہ والوں سے پوچھا تھا کہ ،،
    اگر میں کہوں کے اس پہاڑ کے پیچھے سے دُشمن کی فوج آرھی ھے تو کیا جواب تھا اھل مکّہ کا ؟
    میں نے مُحبت سے کہا کہ وہ بولے ،، تو صادق ھے تو امین ھے ،،،
    بابا کی آنکھوں سے پانی بیہ نکلا ،،
    بولا کریکٹر بھائی کریکٹر ،،
    سوچنا مکّہ سے نکلی ھوئی ایک آواز نے پوری دُنیا کو راستہ فراھم کیا اور درجنوں چینلز پر روز سنکڑوں گھنٹے سچ کا پرچار ھوتا ھے اور کوئی تبدیلی کیوں نہیں آتی ؟؟ کیوں ؟ سوچو ؟؟ پھر میرے چہرے کی پریشانی کو دیکھ کر مُسکُرایا اور تیزی سے پارک سے باھر نکل گیا ،، میں بُہت دیر تک بیٹھا بابا دین مُحمد کی باتوں پر غور کرتا رھا ، اس سے پہلے کے میں کسی نتیجہ پر پُہنچتا میری موبائیل پر بیل ھوئی میں نے رسیو کی دُسری طرف سے بیگم کی آواز آئی ،، سُنیئے آپ کہاں ھیں جلدی گھر آجائیں .
    میں نے بابا کی ساری باتوں کو ذھن سے جھٹکا اور تیزی سے پارک سے نکلا
    گاڑی اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف روانہ ھوا ،،
    گھر پُہنچا تو معلوم ھوا علی کی سائیکل پنکچر ھے،
    عیسٰی کی کتابیں پھٹی ھوئی ھیں اور موسٰی اسکول کا یونیفارم پہنے ٹائی لگائے بال بنائے دُور کھڑا مشروب پی رھا ھے ،
    چند ثانیئے بعد موسٰی میرے پاس آیا اور گلے میں باہیں ڈال کر بولا بابا علی بھائی اور عیسٰی بھائی ڈسپلن میں مُجھ سے پیچھے ھیں ، یہ ھار گئے اور میں جیت گیا ،، میں نے موسٰی کے گال پر پپی کی اور اپنے تینوں بیٹوں علی ، عیسٰی اور موسٰی کو گاڑی پر اسکول چھوڑنے چلا گیا ،،

    از قلم ، افتخار افّی
     
    تجمل حسین، زبیر اور عبدالرزاق قادری نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. عبدالرزاق قادری

    عبدالرزاق قادری یونہی ایڈیٹر

  3. بالکل سچ کہا۔
    یہی حقیقت ہے کہ ٹی وی چینلز پر زیادہ ان عالم حضرات کو بلایا جاتا ہے جو یا تو عالم ہوتے ہی نہیں یا متنازعہ ہوتے ہیں اور پھر ان سے اختلاف کی باتیں ہی کی جاتی ہیں۔
     
    جوگی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں